بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1448ھ 19 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طوافِ زیارت کا ایک چکر رہ جانے کا شرعی حکم


سوال

طواف زیارت میں ایک چکر رہ گیا، چھ چکر لگائے، طواف زیارت کے بعد نفلی طواف بھی کیے، طواف زیارت کا جو ایک چکر رہ گیا کیا وہ نفلی طواف کرنے سے پورا ہوا یا اگر دوبارہ حرمین کا سفر ہوا تو وہ ایک چکر اس نیت سے لوٹا دیں کہ طواف زیارت پورا ہو جائے یا ایک چکر جو رہ گیا اس کے بدلے صدقہ فطر دیں؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں طوافِ زیارت کے سات چکروں میں سے چار چکر رکن (فرض) ہیں اور باقی تین واجب، اور فرض طواف کے اقل (تین یا اس سے کم) چکر چھوڑنے پر دم لازم ہوتا ہے، بشرطیکہ اس کے بعد کوئی اور طواف نہ کیا ہو؛ کیوں کہ وقوفِ عرفہ کے بعد جو طواف بھی کیا جائے، اس میں سے بقدرِ تکمیل چکر فرض طواف کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔

چناں چہ سائل نے چوں کہ طوافِ زیارت کے چھ چکر لگانے کے بعد نفلی طواف بھی کیا، اس لیے اُس نفلی طواف کا ایک چکر طوافِ زیارت کے باقی ماندہ چکر کی تکمیل میں شمار ہوگیا، اور طوافِ زیارت مکمل ہوگیا، لہٰذا نہ اب دوبارہ جا کر وہ چکر لوٹانا لازم ہے اور نہ اس کے بدلے دم۔

البتہ چوں کہ نفلی طواف کا ایک چکر فرض طواف کی طرف منتقل ہوگیا، اس لیے وہ نفلی طواف ایک چکر کم رہ گیا؛ اور نفلی طواف بھی شروع کرنے سے واجب ہوجاتا ہے، اس لیے اس کے ایک چکر رہ جانے کی وجہ سے ایک صدقہ (نصف صاع گندم یا اس کی قیمت) لازم ہوگا۔ ہاں اگر سائل نے بعد میں اس طواف کا اعادہ کرکے اسے مکمل کرلیا ہو تو صدقہ ساقط ہوجائے گا۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"أو ترك أقل سبع الفرض) يعني ولم يطف غيره، حتى لو طاف للصدر انتقل إلى الفرض ما يكمله.

(قوله: حتى لو طاف للصدر) أي مثلا لأن أي طواف حصل بعد الوقوف كان للفرض كما قدمناه شرنبلالية، وأفاد ذلك بقوله يعني ولم يطف غيره."

(کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج،ج:2،ص:552،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا طاف للزيارة جنبا ووجبت عليه الإعادة فإن طاف للصدر في آخر أيام التشريق على الطهارة وقع طواف الصدر عن طواف الزيارة وصار تاركا طواف الصدر فيجب عليه دم لتركه، وهذا بلا خلاف، ويجب عليه دم آخر لتأخير طواف الزيارة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط."

(کتاب المناسک، الباب الثامن فی الجنایات، الفصل الخامس في الطواف والسعي،ج:1،ص:646،ط:دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101804

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں