
کیا اللہ رب العزت نے تورات، انجیل اور زبور تھوڑی تھوڑی کرکے نازل کی تھیں ؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے تورات ، زبور اور انجیل یہ آسمانی کتابیں تھوڑی تھوڑی کر کے نازل نہیں فرمائی تھیں، بلکہ ہر ایک کتاب متعلقہ پیغمبر پر ایک ساتھ اتاری گئی تھی۔ فقط قرآن مجید کوہی یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ تدریجاً یعنی تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا ہے۔
سورہ فرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا" (32)
ترجمہ:”اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پیغمبر پر قرآن دفعتاً واحدۃً کیوں نہیں نازل کیا، اس طرح (تدریجاً) اس لئے (ہم نے نازل کیا) ہے کہ اس کے ذریعہ سے آپ کے دل کو قوی رکھیں، اور (اس لئے) ہم نے اس کو بہت ٹھہرا ٹھہرا کر اُتارا ہے۔“(از بیان القرآن)
تفسیر بیضاوی میں ہے:
"وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُأي أنزل عليه كخبر بمعنى أخبر لئلا يناقض قوله:جُمْلَةً واحِدَةًدفعة واحدة كالكتب الثلاثة."
(سورة الفرقان، ج:4، ص:123، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
تفسیر مظہری میں ہے:
"قوله جُمْلَةً واحِدَةًدفعة واحدة حال من القران كما أنزلت التورية على موسى والإنجيل على عيسى والزبور على داود عليهم الصلاة والسلام."
(سورة الفرقان، ج:7، ص:25، ط:مكتبة الرشیدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100192
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن