بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر میں مخطوبہ کو دیکھنے کا حکم


سوال

میں آن لائن رشتہ گروپ والے کام کرتی ہوں،اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ لڑکا یا لڑکی کی تصویریں دی جاتی ہیں ، ہم ایک گروپ بنا تے ہیں ،جب  تصاویر اور ڈیٹیل والی چیزیں گروپ میں بھیجی جاتی ہیں تو اس سے لڑکا یا لڑکی  پسند و ناپسند کرتا ہے،کیا میں  تصویریں بھیجنا جاری رکھوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  جاندار کی تصویر سازی کی طرح جاندار کی تصویر کشی اور تصویر بینی بھی حرام ہے،اور یہی حکم ان تصاویر کے ارسال (شئیر)کا بھی ہے،پس سائلہ تصاویر کے ارسال سے اجتناب کرے ،البتہ اس کے علاوہ بقیہ کوائف اجازت سے ارسال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،جہاں تک بات مخطوبہ(منگیتر) کو دیکھنے کی ہےتو  شرعاًمرد اپنی منگیتر کو محرم کی موجودگی میں ایک نظر دیکھ سکتا ہے،البتہ تصویر میں اس کی اجازت نہیں ۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"وكذلك إن كان أراد أن يتزوجها فلابأس بأن ينظر إليها وإن كان يعلم أنه يشتهيها لما روي «أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للمغيرة بن شعبة: لما أراد أن يتزوج امرأة: أبصرها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» «وكان محمد بن أم سلمة يطالع بنية تحت إجار لها فقيل له: أتفعل ذلك وأنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا ألقى الله خطبة امرأة في قلب رجل أحل له النظر إليها» ولأن مقصوده إقامة السنة لا قضاء الشهوة، وإنما يعتبر ما هو المقصود لا ما يكون تبعًا."

(كتاب الاستحسان، النظر إلى الأجنبيات، ج:10،ص:155،دارالمعرفۃ)

اعلاءالسنن میں ہے :

"قال العبد الضعيف: و حجة الجمهور قول جابر رضي الله عنه:"فخطبت جاريةّ فكنت أتخبأ "والراوي أعرف بمعني ما رواه ،فدل علي أنه لا يجوز له أن يطلب من أوليائها أن يحضروها بين يديه لما في ذلك من الإستخفاف بهم، و لايجوز إرتكاب مثل ذلك لأمر مباح و لا أن ينظر إليها بحيث تطلع على رؤيته لها من غير إذنها؛ لأنّ المرأة تستحي من ذلك و يثقل نظر الأجنبي إليها على قلبها لما جبلها الله على الغيرة، و قد يفضي ذلك إلي مفاسد عظيمة كما لايخفي،و إنما يجوز له أن يتخبأ لها و ينظر إليها خفية، و مثل هذا النظر يقتصر على الوجه و الكف و القدم لايعدوها إلى مواضع اللحم و لا إلى جميع البدن."

(كتاب الحظر والاباحة،باب جواز النظر إلي المخطوبة،ج:17،ص:379،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں