
1-اسلام میں جان دار کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ درخت وغیرہ بنا سکتے ہیں(حدیث بخاری شریف میں موجود ہے کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان میں) لیکن سائنس کے حساب سے تو درخت بھی جان دار ہے اور اسی حدیث کے آخر میں جان دار سے مراد ہے کہ جس میں روح نہ ہو۔
2-اب روح کس مخلوق میں ہے اور کس میں نہیں ہے کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں؟ تا کہ معلوم ہو جاۓ کس جان دار کی تصویر بناسکتے ہیں اور کس کی نہیں؟
3-اور صرف جان دار کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت کیوں ہے؟ مشابہت تو ہر چیز میں ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے؟
4-اور ایسی تصویر کا اطلاق جان دار کے ہر حصہ میں ہوگا ؟مثلاً ہاتھ، پیر سب میں یا صرف چہرہ میں؟ کیونکہ کچھ علماء کا بیان سنا وہ کہتے چہرہ مسخ کر دینے سے تصویر کے حکم سے نکل جائے گا؟
1- جان دار سے مراد ”ذی روح “ہیں یعنی انسان اور جانور وغیرہ۔ پھول، پودے وغیرہ ”ذی روح، جان داروں “ میں شامل نہیں ہوتے، ان کی تصویر بنانا جائز ہے،حدیث شریف میں صراحتًا اس کی اجازت منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مصور نے تصاویر کے حوالے سے سوال کیا، تو آپ نے اس کو جواب دیا کہ اگر تصویر بنانی ہی ہو تو درخت اور دیگر غیر ذی روح اشیاء کی تصاویر بنالیا کرو۔
2- تمام جاندار جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں، ان میں روح ہوتی ہے،بعض نصوص سے اس بات کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے کہ تمام جانور،چرند پرند اور کیڑے مکوڑوں کی روحوں کے قبض کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالی نے ملک الموت کو سونپی ہوئی ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ ملک الموت نے ایک مرتبہ آپ ﷺسے کہاکہ میں ایک مچھر کی روح بھی اللہ کےحکم کے بغیر اپنی مرضی سے قبض نہیں کرسکتا۔یعنی عام روح میں جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ، جنات اور انسان سب برابر ہیں، البتہ انسان کو ایک الگ روح دی گئی ہے، وہ روح ربانی ہے، اس وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہیں، اور آخرت میں جزا وسزا ہے، اسی کا اشارہ"مِن أمر ربي" اور"ألست بربكم" میں کیا گیا ہے، اس روح ربانی سے جانور پرندے وغیرہ خالی ہے۔ یعنی انسان، جنات اور کیڑے مکوڑوں سب میں ارواح ہوتی ہیں،البتہ ہر ایک کی روح اس کے درجہ کے اعتبار سے ہے،انسان اشرف المخلوقات ہے تو انسان کی روح بھی سب سے افضل واعلی ہوگی۔(لہذا عام روح کے پائے جانے میں تمام ہی جان دار برابر ہیں، اس لیے تمام ذی روح جانداروں کی تصویر سازی شرعاً ناجائز و حرام ہے)
3- اور صرف جاندار ہی کی تصویر سازی کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ انہی کی تصویر سازی میں مشرکین سے مشابہت پائی جاتی ہے، اور انہی کی عبادت کی جاتی ہے، غیر جان دار (بے جان اشیاء) کی چونکہ ( تصاویر کی ) عبادت نہیں کی جاتی، اس لیے ان کی تصویر بنانے میں (مشرکین کے ساتھ) مشابہت لازم نہیں آتی۔
4- شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی جس تصویر کشی کی ممانعت ہے ، اور جس پر وعیدات وارد ہوئی ہیں،اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تصویر ہو جس سے اس کا جان دار ہونا معلوم ہوتا ہو،یا ایسی تصویر ہو کہ جس کی عبادت کی جاسکتی ہو،لہذا ایسے عضوکی تصویر کھینچنا جس میں چہرہ یا سر کا حصہ نہ آتا ہو( کہ جو انسان کا عضو رئیسی ہو،بلکہ صرف ہاتھ ، پاؤں وغیرہ کی تصویر ہو ) یا تصویر سے سر کو مکمل طور پر مٹا دیا گیا ہوتو ایسی صورت میں وہ شرعاً حرام تصویر کے حکم میں نہیں ہوگا۔البتہ بلاضرورت اِس بھی اجتناب کرنا بہتر ہے ،ورنہ بتدریج تصویر کی شناعت اور حرمت کا تصور کم ہوتا رہے گا،اور گناہ میں ابتلاء کا اندیشہ بڑھتا رہےگا۔
واضح رہے کہ صرف آنکھوں یا ناک کا مٹانا کافی نہیں ، اور اس سے تصویر حرام تصویر کے حکم سے خارج نہیں ہو گی۔
1-مشکوۃ شریف میں حدیثِ پاک منقول ہے:
"عن سعید بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس إذ جاءه رجل، فقال: يا ابن عباس! إني رجل إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير، فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ماسمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعته يقول: من صوّر صورةً فإن الله معذّبه حتى ينفخ فيه الروح وليس بنافخ فيها أبداً. فربا الرجل ربوةً شديدةً واصفرّ وجهه. فقال: ويحك! إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر وكل شيء ليس فيه روح. رواه البخاري."
(مشکاة المصابیح، باب التصاویر، ص:386 ط:قدیمی)
ترجمہ:”حضرت سعید بن ابو الحسن روایت کرتے ہیں، میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابن عباس! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرا معاشی گزران ہاتھ کی محنت سے ہوتاہے اور میں یہ (جان دارکی) تصاویر بناتاہوں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی بات سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، (یعنی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہوں گا) آپ ﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا : جو شخص (جان دار کی) تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عذاب دیں گے، یہاں تک کہ وہ اس تصویر میں جان / روح نہ ڈال دے، اور وہ اس (تصویر) میں کبھی جان نہیں ڈال پائے گا۔ یہ حدیث سن کر اس شخص نے ایک بڑا اور اونچا سانس لیا اور اس کا چہرہ زرد پڑگیا، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیرا ناس ہو! اگر تصویر بنانی ہی ہے (یعنی اگر تمہارا گزران نہیں ہوتا) تو ان درختوں کی تصاویر بناؤ اور ہر اس چیز کی جس میں روح نہ ہو۔ “(صحیح بخاری)
1-دوسری حدیث شریف میں ہے:
"عن سعيد بن أبي الحسن ، قال: جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال: إني رجل أصور هذه الصور فأفتني فيها؟ فقال له: ادن مني، فدنا منه، ثم قال: ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفساً فتعذبه في جهنم"، وقال: إن كنت لا بدّ فاعلاً فاصنع الشجر، وما لا نفس له".
(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، ج:3، ص: 1670، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: ”سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں یہ تصویریں بناتا ہوں، اس بارے میں مجھے فتویٰ دیجیے! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے قریب ہو، وہ ہوگیا، پھر انہوں نے فرمایا: قریب ہوجاؤ، چناں چہ وہ اور نزدیک ہوگیا، یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور فرمایا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ميں ایک جان داربنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے بنانا ہی ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔“
1-ایک اور حدیث شریف میں ہے:
"عن النضر بن أنس بن مالك، قال: كنت جالساً عند ابن عباس، فجعل يفتي، لايقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى سأله رجل، فقال: إني رجل أصور هذه الصور، فقال له ابن عباس: ادنه فدنا الرجل، فقال ابن عباس : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: "من صور صورة في الدنيا كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة، وليس بنافخ."
(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، ج:3، ص:1671، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: ”سیدنا نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ فتویٰ دیتے تھے اور حدیث نہیں بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا: میں مصور ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ، وہ پاس آیا ،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص دنیا میں تصویر بنائے اس کو قیامت کے دن اس تصویر میں روح (جان) ڈالنے کا مکلّف بنایا جائے گا لیکن وہ جان نہ ڈال سکے گا۔“
1-فتاوی شامی میں ہے:
"قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا،انتهى،وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".
(كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص: 647، ط: سعيد)
1-شرح الکبیر میں ہے:
"والحاصل أنه يحرم تصوير حيوان عاقل أو غيره إذا كان كامل الأعضاء إذا كان يدوم إجماعا وكذا إن لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ ويحرم النظر إليه إذ النظر إلى المحرم حرام."
(باب النکاح ، ج:2، ص:388، ط:دارالفکر)
1-بلوغ القصد و المرام میں ہے:
"يحرم تصوير حيوان عاقل أو غيره إذا كان كامل الأعضاء، إذا كان يدوم، وكذا إن لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ. ويحرم النظر إليه؛ إذا النظر إلى المحرم لَحرام".
(جواہر الفقہ، تصویر کے شرعی احکام: ج:7، ص:264-265، از: بلوغ القصد والمرام، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
2-تفسیر روح المعانی میں ہے:
"وأخرج ابن أبي حاتم، وأبو الشيخ عن أبي جعفر محمد بن علي رضي الله تعالى عنهما قال: دخل رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم على رجل من الأنصار يعوده فإذا ملك الموت عليه السلام عند رأسه فقال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: يا ملك الموت ارفق بصاحبي فإنه مؤمن فقال: أبشر يا محمد فإني بكل مؤمن رفيق واعلم يا محمد أني لأقبض روح ابن آدم فيصرح أهله فأقوم في جانب من الدار فأقول والله ما لي من ذنب وإن لي لعودة وعودة الحذر الحذر وما خلق الله تعالى من أهل بيت ولا مدر ولا شعر ولا وبر في بر ولا بحر إلّا وأنا أتصفحهم فيه كل يوم وليلة خمس مرات حتى أني لأعرف بصغيرهم وكبيرهم منهم بأنفسهم والله يا محمد إني لا أقدر أقبض روح بعوضة حتى يكون الله تبارك وتعالى الذي يأمر بقبضه، وأخرج نحوه الطبراني، وأبو نعيم، وابن منده
ونسبته إليه عز وجل في قوله سبحانه: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ [الزمر: 42] باعتبار أن أفعال العباد كلها مخلوطة له جلّ وعلا لا مدخل للعباد فيها بسوى الكسب كما يقوله الأشاعرة أو باعتبار أن ذلك بإذنه تعالى ومشيئته جلّ شأنه ونسبته إلى الرسل في قوله تعالى: تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا [الأنعام: 61] وإلى الملائكة في قوله سبحانه: الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظالِمِي أَنْفُسِهِمْ [النحل: 28] لما أن ملك الموت لا يستقل به بل له أعوان كما جاء في الآثار يعالجون نزع الروح حتى إذا قرب خروجها قبضها ملك الموت، وقيل: المراد بملك الموت الجنس، وقال بعضهم: إن بعض الناس يتوفاهم ملك الموت وبعضهم يتوفاهم الله عز وجل بنفسه،أخرج ابن ماجة عن أبي أمامة قال: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول إن الله تعالى وكل ملك الموت عليه السلام بقبض الأرواح إلا شهداء البحر فإنه سبحانه يتولى قبض أرواحهم» .
وجاء ذلك أيضا في خبر آخر يفيد أن ملك الموت للأنس غير ملك الموت للجن والشياطين وما لا يعقل.
أخرج ابن جويبر عن الضحاك عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: وكل ملك الموت عليه السلام بقبض أرواح المؤمنين فهو الذي يلي قبض أرواحهم وملك في الجن وملك في الشياطين وملك في الطير والوحش والسباع والحيتان والنمل فهم أربعة أملاك والملائكة يموتون في الصعقة الأولى وأن ملك الموت يلي قبض أرواحهم ثم يموت وأما الشهداء في البحر فإن الله تعالى يلي قبض أرواحهم لا يكل ذلك إلى ملك الموت بكرامتهم عليه سبحانه.
والذي ذهب إليه الجمهور أن ملك الموت لمن يعقل وما لا يعقل من الحيوان واحد وهو عزرائيل ومعناه عبد الله فيما قيل نعم له أعوان كما ذكرنا."
(سورۃ السجدہ،ج11،ص124،ط؛دار الکتب العلمیۃ)
2- ابو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادى (المتوفى: 817ھ) لکھتے ہیں:
"وأَمَّا حقيقة الرّوح فهى لطيفة ربّانيَّة، وعُنصر من عناصر العالَم العلوىِّ تتصل بمدَدٍ ربَّانىّ إِلى العالم السُّفلىّ. وعلى حسب درجة الحيوانات وتفاوت الحالات التى لهم تتَّصل بهم. ولما كان الإِنسان فى الصّورة والصّفة والمعنى أَكمل من جميع الحيوانات كان المتَّصل به من ذلك أَفضل الأَرواح. وليس لأَحد من العالمين وقوف على سرِّ تلك اللَّطيفة وحقيقته، والله سبحانه المنفرد بعلم ذلك".
(بصائر ذوي التمييز في لطائف الكتاب العزيز لأبی طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادى (المتوفى: 817هـ): «الباب الحادى عشر فى الكلمات المفتتحة بحرف الراء» «بصيرة فى الروح» (۳/ ۱۰6)، ط۔ المجلس الأعلى للشئون الإسلامية - لجنة إحياء التراث الإسلامي، القاهرة)
2-التفسیر القرآنی للقرآن میں ہے:
"وإنه إذا كان لاحديث للعلم فى هذا الأمر الغيبىّ، فإن المشاهدة تدعونا إلى القول بأن الأرواح التي تلبس الكائنات الحية- بما فيها الإنسان- ليست على درجة واحدة من القوة التي تنبعث منها فى الكائن الحي، وفى الآثار التي تحدثها فيه..ففى عالم الحيوان مثلا.. نجد من الحيوانات مالا تكاد تحسّ فيه الحياة، كالديدان مثلا، كما نجد حيوانات تكاد تعقل، كالقردة.. وبين هذه وتلك أنماط كثيرة من الحيوات التي تلبس عالم الحيوان..وهذا يعنى أن اختلافا ما بين روح وروح إن لم يكن فى النوع ففى القدر، وفى الدرجة."
( سورة الزمر،تفسيىر الآیة: (41 الى 46)، (12/ 1164)،ط. دار الفكر العربي - القاهرة)
2-تفسیرکبیر میں ہے:
"(وأن عليه النشأة الأخرى) (47): وهي في قول أكثر المفسرين إشارة إلى الحشر، والذي ظهر لي بعد طول التفكر والسؤال من فضل الله تعالى الهداية فيه إلى الحق، أنه يحتمل أن يكون المراد نفخ الروح الإنسانية فيه۔۔۔۔ وبهذا الخلق الآخر تميز الإنسان عن أنواع الحيوانات، وشارك الملك في الإدراكات فكما قال هنالك: أنشأناه خلقا آخر بعد خلق النطفة قال هاهنا: وأن عليه النشأة الأخرى فجعل نفخ الروح نشأة أخرى كما جعله هنالك إنشاء آخر، والذي أوجب القول بهذا هو أن قوله تعالى: وأن إلى ربك المنتهى [النجم: 42]."
(مفاتیح الغیب: سورة النجم، (۲۹/ ۲4۱)،ط.دار إحياء التراث العربي – بيروت،الطبعة:الثالثة: 1420هـ)
3-فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله أو لغير ذي روح) لقول ابن عباس للسائل " فإن كنت لا بد فاعلا فاصنع الشجر وما لا نفس له " رواه الشيخان، ولا فرق في الشجر بين المثمر وغيره خلافا لمجاهد بحر (قوله لأنها لا تعبد) أي هذه المذكورات وحينئذ فلا يحصل التشبه.
فإن قيل عبد الشمس والقمر والكواكب والشجرة الخضراء. قلنا عبد عينه لا تمثاله، فعلى هذا ينبغي أن يكره استقبال عين هذه الأشياء معراج: أي لأنها عين ما عبد، بخلاف ما لو صورها واستقبل صورتها."
(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 649، ط: سعيد)
4-مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وفي شرح السنة: فيه دليل على أن الصورة إذا غيرت هيئتها بأن قطعت رأسها أو حلت أوصالها حتى لم يبق منها إلا الأثر على شبه الصور فلا بأس به، وعلى أن موضع التصوير إذ نقض حتى تنقطع أوصاله جاز استعماله. قلت: وفيه إشارة لطيفة إلى جواز تصوير نحو الأشجار مما لا حياة فيه، كما ذهب إليه الجمهور وإن كان قد يفرق بين ما يصير ومآلا وانتهاء وبين ما يقصد تصويره ابتداء. والله أعلم."
(مرقاة المفاتيح ،باب التصاوير،ج: 1، ص: 2855،رقم الحديث:4501، ط: دارالفكر)
4-فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: أو مقطوعة الرأس ) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر أو يطليه بمغرة أو بنحته أو بغسله؛ لأنها لاتعبد بدون الرأس عادةً، وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلاينفي الكراهة؛ لأن من الطيور ما هو مطوق فلايتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس؛ لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين؛ لأنها تعبد بدونها، وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين، بحر."
(کتاب الصلوۃ ،باب الاستخلاف، ج:1، ص:648، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101133
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن