بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر کی بنیاد پر لاپتہ شخص کی میت کی شناخت اور اس کی بیوہ کی عدت کا حکم


سوال

میرے والد صاحب کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور وہ سولہ اکتوبر دو ہزار پچیس سے لاپتہ ہیں،  ہم نے ہر جگہ تلاش کیا اور پولیس میں رپورٹ بھی درج کروائی، لیکن ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

ہم چھیپا ہیڈ آفس بھی گئے تھے، جہاں جنوری دو ہزار چھبیس میں ہمیں ایک مشابہ لاش کی تصویر دکھائی گئی، چھیپا اور رضویہ پولیس اسٹیشن کی رپورٹ کے مطابق وہ لاش پچیس اکتوبر دو ہزار پچیس کو چھیپا کے پاس آئی تھی اور پندرہ  نومبر دو ہزار پچیس کو چکر ا قبرستان میں دفن کر دی گئی، اب ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ ہم کیا کریں؟ كيوں كه هميں يه شك هے كه وه لاش همارے والد صاحب كي هوگي، كيوں كه تصوير ميں چهرے كے كچھ نقوش مشابه هيں اور كچھ نهيں.

 کیا ہم اس تصویر کو دیکھ کر اسے اپنا والد مان لیں؟یا انہیں وفات یافتہ تصور کر لیں جب کہ چھ ماہ ہونے والے ہیں، یا اس لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانا چاہیے ؟ براہ کرم یہ بھی رہنمائی کریں کہ میری والدہ کی عدت کب سے شروع ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو تصویر کے متعلق شک ہے ، غالب گمان نہیں تو اس میت کو سائل کے والد کی میت نہیں مانا جا سکتا؛ نیز  ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے لیے قبر کھولنا جائز نہیں ہے۔

لہذا  سائل اپنے والد کی تلاش جاری رکھے،جب یہ غالب گمان ہو کہ وہ زندہ نہیں رہے تو عدالت سے رجوع کرے، جب عدالت موت کا حکم جاری کردے،   اس کے بعد سائل کی والدہ عدت گزارےگی، اس سے پہلے عدت نہ گزارے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون، الفصل السادس، ج: 1، ص: 182، ط: دار الكتب العلمية)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"وما روي من حديث المدلجي وأسامة بن زيد وفرح النبي عليه الصلاة والسلام. قلنا: لم يثبت ذلك عنده عليه الصلاة والسلام بقول القائف، فإنه عليه الصلاة والسلام كان يعلم ذلك ولكن المشركون كانوا يطعنون في نسب أسامة، فكان قول القائف قاطعا لطعنهم، لأنهم كانوا يعتقدونه في الجاهلية لا أنه حكم شرعي، فلذلك فرح النبي صلى الله عليه وسلم."

(كتاب العتق، باب الاستيلاد، ج: 2، ص: 904، ط: البشرى)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وفي واقعات المفتين لقدري أفندي معزيا للقنية أنه إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة

(قوله: بقضاء إلخ) هو أحد قولين. قال القهستاني: وفي الفاء من قوله فتعتد عرسه دلالة على أنه يحكم بموته بمجرد انقضاء المدة فلا يتوقف على قضاء القاضي كما قال شرف الأئمة وقال نجم الأئمة القاضي عبد الرحيم نص على أنه يتوقف عليه كما في المنية. اهـ. وما قاله شرف الأئمة موافق للمتون سائحاني.قلت: لكن المتبادر من العبارة أن المنصوص عليه في المذهب الثاني. ثم رأيت عبارة الواقعات عن القنية أن هذا أي ما روي عن أبي حنيفة من تفويض موته إلى رأي القاضي نص على أنه إنما يحكم بموته بقضاء إلخ"

(كتاب المفقود، ج: 4، ص:297، ط: سعيد)

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله (وتعتد امرأته وورث منه حينئذ لا قبله) أي حين حكم بموته لا قبل ذلك حتى لا يرثه إلا ورثته الموجودون في ذلك الوقت لا من مات قبل ذلك الوقت من ورثته كأنه مات فيه عيانا لأن الحكمي معتبر بالحقيقي"

(كتاب المفقود، ج: 4، ص:232، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں