
ہمارے والد کا انتقال 2001 میں ہوا، ان کے انتقال کے وقت ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ تھیں، ابھی تک ان کی میراث تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ( 21 نومبر 2020 ) کوہماری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا، پھر والدہ کے انتقال کے بعد دسمبر 2020 میں ہمارے ایک بھائی کا بھی انتقال ہو گیا، بھائی کے ورثا میں ایک بیوہ ،ایک بیٹی، دو بھائی اور چار بہنیں زندہ تھیں ، اور ہم سب بہنوں اور بھائیوں نے جو ہمیں اپنے بھائی کا حصہ ملنا تھا وہ اپنی خوشی و رضا مندی سےاپنے بھائی کی بیوہ اور بیٹی کو ہبہ کر دیا ہے۔
اب ان سب کے درمیان وراثت کس طرح سے تقسیم کی جائے گی ؟
والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کے ترکہ میں کچھ جائیداد،شیئرزاور بینک میں نقدی تھی۔
واضح رہے کہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا ترکہ میں سے اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض کسی دوسرے وارث یا ورثاء کے حق میں دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں،ایسا کرنے سے اس کا حق ختم نہیں ہوتا،اسی طرح اگر ترکہ میں کئی ورثاء کا حق ہو،اوروہ ترکہ ان سب میں مشترک ہو تو کسی وارث کا تقسیم سے پہلے اپنا حصہ دوسروں کو دینے سے ہبہ نافذ نہیں ہوتا،البتہ ترکہ کی تقسیم کرکے اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اپنا حصہ کسی وارث یا غیر وارث کو ہبہ کرنا شرعاً جائز ہوگا ،کیوں کہ حق وراثت جبری(لازمی) حق ہے جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے باقی بہن بھائیوں کا ترکہ کی تقسیم سے پہلے اپنا حصہ اپنے بھائی کی بیوہ اور اس کی بیٹی کو ہبہ کرنا درست نہ ہو گا،البتہ ترکہ تقسیم ہونے کے بعد جب سائل اور اس کے باقی بہن بھائی اپنے اپنے حصہ پر قبضہ کر لیں تو پھر اپنے مرحوم بھائی کی طرف سے ملنے والا حصہ اس کی بیوہ اور بیٹی کو ہبہ کر دیں تو یہ درست ہو جائےگا۔
اور صور تِ مسئولہ میں مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ مرحومین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز تکفین کے خرچے کے بعد اگر مرحومین پر کوئی قرضہ ہے تو اس کو ادا کرنے کے بعد اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوبقیہ ایک تہائی مال سے ادا کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو320 حصوں میں تقسیم کر کے 70،70حصے سائل کے والد کے ہر ایک زندہ بیٹے کو،35،35حصے اس کی ہر ایک بیٹی کو،8حصے مرحوم بھائی کی بیوہ کو،32حصے اس کی بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت(سائل کے والدین):10/ 320
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
| فوت شدہ | 64 | 64 | 32 | 32 | 32 | 32 |
میت (سائل کابھائی):8/ 64(32)۔۔۔مف:2(1)
| بیوہ | بیٹی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 4 | 3 | |||||
| 8 | 32 | 6 | 6 | 3 | 3 | 3 | 3 |
یعنی سائل کے والد مرحوم کے کل ترکہ میں سے 21.875فیصد سائل کے والد مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹےکو، 10.9375 فیصد اس کی ہر ایک بیٹی کو،2.5فیصدسائل کے مرحوم بھائی کی بیوہ کو،10فیصد اس کی بیٹی کو ملے گا۔
ملحوظ رہے کہ کل ترکہ میں سے سائل اور اس کے بھائی کو جو 21.875فیصدحصہ ملا ہےاس میں سے1.875فیصد اور ہر بہن کو جو 10.9375فیصد حصہ ملا ہےاس میں سے0.9375 ان کے مرحوم بھائی کے حصے میں سے ملا ہے،تو اگر مرحوم بھائی کے یہ بھائی بہن مرحوم بھائی کی بیوہ اور بیٹی کو اپنا اپنا حصہ ہبہ کرنا چاہیں تو ترکہ تقسیم ہونے کے بعد اپنے حصے پر قبضہ کرکے مرحوم کی بیوہ اور بیٹی کو قبضہ و تمام اختیارات کے ساتھ دے دیں تو ہبہ تام ہو جائے گا۔
نیز یہ آسان صورت بھی اختیار کی جا سکتی ہےکہ سائل ،اس کا بھائی اور بہنیں مرحوم بھائی کی بیوہ اور بیٹی سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو) صلح کرلیں اور بھائی کے ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائیں، تو بھائی کاتمام ترکہ مرحوم بھائی کی بیوہ اور بیٹی کو مل جائےگا۔
تکملہ درالمختار میں ہے:
"الإرث الجبري لايسقط بالإسقاط."
(ج:7، ص:505، ط:سعيد)
الاشباہ والنظائر میں ہے:
"لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك."
(الفن الثالث: الجمع والفرق، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود، ص:272، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس."
(كتاب الصلح، الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية، ج:4، ص:268، ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101000
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن