بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تسبیح دائیں اور بائیں ہاتھ پر پڑھ سکتے ہیں؟


سوال

تسبیح دائیں اور بائیں ہاتھوں سے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ذکر و اَذکار میں مقصود بالذات تسبیحِ باری تعالی ہوتی ہے اور شمار کرنا مقصود اصلی نہیں ہوتا، اس وجہ سے احادیث میں مختلف طریقوں سے شمار کرنے کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں سے ایک طریقہ ہاتھ کی انگلیوں سے شمار کرنے کا بھی منقول ہے، البتہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ہر چیز  میں دائیں جانب کو زیادہ پسند کرتے تھے، اور بعض رویات میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام  نے مومن عورتوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ تسبیحات کو اپنی انگلیوں پر شمار کریں۔ ان روایات  کے بعض طرق میں  دائیں ہاتھ کا بھی ذکر ہے،لہذا فقہاء و محدثین نے دونوں ہاتھوں میں سے کسی بھی ہاتھ سے شمار کرنے کی اجازت دی ہے، البتہ دائیں ہاتھ سے شمار کرنے کو افضل قرار دیا ہے 

نسائی شریف میں ہے:

"أخبرنا محمد بن معمر، قال: حدثنا أبو عاصم، عن محمد بن بشر، عن أشعث بن أبي الشعثاء، عن الأسود بن يزيد، عن عائشة قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب التيامن، يأخذ بيمينه، ويعطي بيمينه، ويحب التيمن في جميع أموره»."

(التيامن في الترجل، ج:8، ص:133، رقم لحدیث:5059، ط:مكتب المطبوعات الإسلامية - حلب)

مُصنف ابن أبي شيبة میں ہے:

"حدثنا محمد بن بشر قال سمعت هانئ بن عثمان يحدث، عن أمه حميضة بنت ياسر، عن جدتها يسيرة، و كانت إحدى المهاجرات، قالت: قال لها رسول الله صلى الله عليه و سلّم: عليكنّ بالتسبيح و التكبير و التقديس،و اعقدن بالأنامل؛ فإنهنّ يأتين يوم القيامة مسئولات مستنطقات، و لاتغفلن فتنسين من الرحمة."

(کتاب الدعاء، باب في ثواب التسبيح، ج:12، ص:209، الرقم:31386، ط:دار كنوز- السعودیۃ)

”حضرت یسیرہ رضی اللہ عنہا جو ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا : تسبیح و تہلیل اور تقدیس کو اپنے اُوپر لازم کرلو اور ان کو اُنگلیوں  پر گنا کرو، کیوں کہ ان سے سوال کیا جائے گا اور ان کو بلوایا جائے گا، اور ذکر سے غفلت نہ کیا کرو، ورنہ رحمت سے بھلادی جاوٴگی۔“ 

سنن ابی داود میں ہے:

"عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، قال:رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌يعقد ‌التسبيح،قال ابن قدامة: بيمينه

(کتاب الصلاۃ، باب التسبيح بالحصى، ج:2، ص:217، الرقم:1502، ط:دار الرسالة العالمية)

شرح سنن أبي داود لابن رسلان میں ہے:

"(عن عبد الله بن عمرو) بن العاص رضي الله عنه (قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعقد التسبيح) والتكبير والتهليل وغير ذلك من الأذكار مما هو في معناه (قال) محمد (ابن قدامة) في روايته: يعقد التسبيح (بيمينه) أي: بأصابع يده اليمنى. [أخرجه الترمذي والنسائي، قال الترمذي: حديث حسن]. يعني: بالأنامل منها وهي رؤوس العقد من الأصابع، وفيه أن السنة في الذكر عقيب الصلاة وهو التسبيح ثلاثًا وثلاثين والتحميد ثلاثًا وثلاثين والتكبير ثلاثا وثلاثين، ولمسلم: أربعة وثلاثين أن يعقد العدد بأصابع يده اليمنى دون اليسرى، ويؤخذ منه أنه أفضل من عدد ذلك بالمسبحة؛ فإن اتباع  السنة أولى، وإن كانت السبحة في معنى ذلك".

(کتاب الوتر،باب التسبيح بالحصى، ج:7، ص:273، ط:دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث- مصر)

الدعوات الكبير میں ہے:

"أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أخبرنا أبو الطيب محمد بن أحمد بن الحسن الحيري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء، أخبرنا علي بن عثام العامري، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو،قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقد التسبيح.

وفیه ایضا:  وأخبرنا أبو علي الروذباري، أخبرنا أبو بكر بن داسة، حدثنا أبو داود، حدثنا محمد بن قدامة، حدثنا عثام،فذكره بإسناده نحوه، زاد في حديثه: " بيمينه ".

(باب عقد التسبيح، ج1،ص:444، الرقم:331، ط:غراس للنشر والتوزيع - الكويت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں