بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تریاق کی کاشت اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کا حکم۔۔۔


سوال

ہمارے بلوچستان میں زیادہ تر کاشت تریاق کی ہوتی ہے۔

سوال نمبر 1: تریاق کی کاشت جائز ہے یا نہیں؟

سوال نمبر 2: تریاق کی پیداوار (شیرے) سے زکوٰۃ دینا یا لینا جائز ہے یا نہیں؟

سوال نمبر 3: تریاق کی کاشت کی رقم مسجد کے امام صاحب، یا مدرسے کے مہتمم صاحب مدرسے کے طلبہ کرام کی خاطر بطورِ صدقہ یا زکوٰۃ وصول کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

1۔تریاق کا جائز اور ناجائز دونوں استعمال ہونے کی  وجہ سے اس کی کاشت کرنا بھی جائز ہے اور اس کو کسی ایسے ادارے یا شخص کو فروخت کرنا  جس سے وہ دوائی بناتا ہو جائز ہے اوراس کی کمائی بھی حلال ہے لیکن اس کو کسی ایسے شخص کو فروخت کرنا جس کے بارے میں معلوم ہوکہ وہ اسے نشے کے لیے استعمال کرتاہے مکروہ تحریمی ہے۔

2۔تریاق کی پیداوار( شیرے )  میں عشر واجب ہوتاہے ،  زکوۃ   نہیں۔  البتہ اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہو،اوروہ شیرےسے زکوۃ ادا کرنا چاہتاہو تو ادا کرسکتے ہیں۔

3۔تریاق کی کاشت کی رقم کا بطور صدقہ لینا جائزہے ۔اسی طرح تریاق کی کاشت کی رقم بطور زکوۃ کسی بھی مستحق زکوۃ شخص کے لیے وصول کرنا جائز ہے ، خواہ وہ مسجد کا امام صاحب وصول کریں  ،یا مدرسہ کا مہتمم صاحب مستحق طلباء کرام کی خاطر وصول کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.  قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لايجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل". 

 (كتاب الأشربة، ج:6، ص: 454، ط: ایچ ایم سعید)

وفیہ أیضاً:

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمراً)؛ لأن المعصية لاتقوم بعينه بل بعد تغيره، وقيل: يكره؛ لإعانته على المعصية، ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله: ممن أي من كافر، أما بيعه من المسلم فيكره، ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما، زاد القهستاني معزياً للخانية: أنه يكره بالاتفاق.
(قوله: ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف، قهستاني، (قوله: لاتقوم بعينه إلخ) يؤخذ منه أن المراد بما لاتقوم المعصية بعينه ما يحدث له بعد البيع وصف آخر يكون فيه قيام المعصية وأن ما تقوم المعصية بعينه ما توجد فيه على وصفه الموجود حالة البيع كالأمرد والسلاح ويأتي تمام الكلام عليه (قوله: أما بيعه من المسلم فيكره) لأنه إعانة على المعصية، قهستاني عن الجواهر.
أقول: وهو خلاف إطلاق المتون وتعليل الشروح بما مر وقال ط: وفيه أنه لايظهر إلا على قول من قال: إن الكفار غير مخاطبين بفروع الشريعة، والأصح خطابهم، وعليه فيكون إعانة على المعصية، فلا فرق بين المسلم والكافر في بيع العصير منهما، فتدبر اهـ ولايرد هذا على الإطلاق والتعليل المار."

(كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:391،ط:سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

''افیون ،چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کادوامیں خارجی استعمال جائزہے،نشہ کی غرض سے ان کواستعمال کرناناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت توشراب اورخنزیرکی حرام ہے کہ ان کااستعمال خارجی بھی ناجائزہے۔''

(ج: 9، ص:129،   ط:دارالاشاعت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما زكاة الزروع والثمار وهو العشر."

(كتاب الزكاة، فصل زكاة الزروع والثمار، ج:2، ص:53، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں