
میرے شوہر 4 دسمبر 2025کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، ان کی 4 بیٹیاں اور 5 بیٹے ہیں اور سب الحمد لله شادی شدہ ہیں، انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا ہے، جس کی مالیت تقریباً 55 لاکھ ہے۔
1-ترکہ کی تقسیم میت کے کتنے دن بعد ہونی چاہیئے؟
2- قرض ایک لاکھ ستاسی ہزار (1،87000) ہے، اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟
3- یہ مکان اسٹام پیپر پر لیا، اس کے کاغذات نہیں بنوائے گئے، حتیٰ کہ اس کی فرد حقیقت بھی منتقل نہیں کرائی گئی، اس مکان کا ایک کو نہ یعنی ایک کمرہ انہوں نے اپنی زندگی میں فروخت کیا، اور عمرہ کرکے آئے، اب اس کا سب ڈویژن بنانے کا مسئلہ ہے، سب ڈویژن کے بنانے میں اور فرد حقیقت بنوانے میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ کا خرچہ بتایا گیا ہے، اب یہ کس طرح ادا ہوگا؟
4- اس مکان پر تقریباً گیارہ لاکھ سے زائد بجلی کا بل ہے، گیس کا بھی 65 ہزار کا بل ہے، وہ کس طرح ادا ہوگا؟
5- ہمارے شوہر 3 بھائی اور ایک بہن ہیں، ہمارے سسر کے ترکہ کی تقسیم ان کی زندگی میں ہوئی، بھائیوں کو 50-50 ہزار ادا کر دیئے، بہن کو دینے کا ارادہ تھا لیکن نہیں دے سکے، اب بہن کے 25000 کے مقروض تھے، اس بات کو 30 سال ہو گئے ،اب ان کو کتنا دینا ہے؟
6- بیوہ 4 بیٹیوں اور 5 بیٹوں کا حصہ کتنا ہوگا؟
1- ترکہ کی تقسیم جتنی جلد ممکن ہوسکے کرنی چاہیئے، بلاوجہ تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اس کے لیے کوئی دن متعین نہیں ہے۔
2- میت کے تر کہ میں سے کفن اور دفن وغیرہ کے خرچہ کے بعدسب سے پہلے باقی کل مال میں سے اس کے قرضے کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس کے بعد ما بقیہ کے ایک تہائی میں سے جائز وصیت کی ادائیگی کی جائے گی، اس کے بعد جو بچے وہ وارثوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اس سے پہلے ترکہ کی تقسیم کرنے کا جواز نہیں ہوگا۔
3- جو اخراجات ترکہ کو قابل تقسیم بنانے کے لیے ضروری ہیں، وہ ورثاء پر ان کے حصص کے بقدر لازم ہوتے ہیں۔سب ڈویژن بنانے اور فرد حقیقی (property transfer) منتقل کرانے میں جو خرچہ ہوگا، وہ ورثاء پر ان کے حصص کے بقدر لازم ہوگا۔
4- بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی بھی واجب الادا قرض کے حکم میں ہے، لہذا یہ بھی کل مال میں سے ادا کیے جائیں گے۔البتہ جو بجلی کا بل مرحوم کی وفات کے بعد ورثاء کے استعمال کرنے سے لازم ہوا ہے، وہ ان ہی ورثاء ہی پر اد ا کرنا لازم ہوگا، اس کی کٹوتی دیگر ورثاء کے حصوں سے نہیں کی جائے گی۔
5- واضح رہے کہ زندگی میں جائیداد اور پیسوں کی تقسیم ہبہ اور گفٹ کے حکم میں ہوتی ہے، اور زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد اور پیسوں کی تقسیم میں برابری کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے، لہذا سائلہ کے سسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹی کو بھی برابر حصہ دیتے، لیکن جب سسر نے نہیں دیا، تو اب سسر کے بعد ان کے بیٹوں کے ذمہ اس کی ادائیگی شرعًا لازم نہیں، البتہ سب بھائی اپنی جانب سے اس کی تلافی کی کوشش کریں اور بہن کو کچھ نہ کچھ دے دیں تو بہتر ہے اور باعث ثواب ہے۔
6- نیز سائلہ کے مرحوم شوہر کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ ادا کرنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ جو قرض ہو تو اس کو ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے پورا کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو16 حصوں میں تقسیم کرکے، مرحوم کی بیوہ کو 2 حصے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے، اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت ( سائلہ کا شوہر ): 16/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | ||||||||
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو 12.5 فیصد، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 12.5 فیصد، اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 6.25 فیصد ملے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
" (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض "
( کتاب الفرائض، ج:6، ص:760، ط:سعید )
وفیہ ایضا :
" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. "
(کتاب الوقف، فصل یراعی شرط الواقف فی اجارته، مطلب مھم فی قول الواقف علی الفریضة الشرعیة، ج : 4، ص : 444، ط : سعید)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
(المادة ١٠٧٣) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك
" تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما "
( الكتاب العاشر الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ج:3، ص:26، ط: دار الجیل )
وفیہ ایضا:
" إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم................. الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم. "
( الكتاب العاشر الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى، ج:3، ص:310، ط:دار الجیل )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100345
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن