
والد سے پہلے اگر ان کی بیٹی کا انتقال ہوجاۓ تو والد کے انتقال کے بعد وراثت میں شرعی طور پر مرحوم والد کی مرحومہ بیٹی کے بچوں کا حق ہے یا نہیں ؟
مرحومہ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،اسی طرح شوہر بھی زندہ ہے۔مرحومہ کے پاس ایک فلیٹ تھا جو مرحومہ کے والد نے ان کو صرف رہنے کے لیے دیا تھا ،ا ن کے نام نہیں کیا تھا ، اب کیا اس فلیٹ پر مرحومہ بیٹی کے ورثاء کا حق ہے یا نہیں ؟
نوٹ: اس بیٹی کے انتقال کے وقت والدین بھی زندہ تھے ، اب ان کا انتقال ہوچکا ہے، پہلے بیٹی کا انتقال ہو ا، پھر والدہ کا ، اور پھر والد کا انتقال ہوا، نیز مرحومہ کے چار بھائی بھی ہیں ، بہنیں نہیں ہیں ۔
صورت مسئولہ میں والد کے انتقال کے بعد مرحوم والد کا ترکہ ان کے صرف زندہ ورثاء( چار بیٹوں ) کے درمیان ہی شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیاجاۓ گا ،والد کی زندگی میں وفات پانے والی مرحومہ بیٹی کی اولاد کو والد کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملےگا ، بلکہ مرحومہ کے ترکہ میں مرحومہ کی اولاد اور شوہر کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کا بھی حصہ ہوگا ۔نیز والد مرحوم نے اگر واقعتًا اپنی زندگی میں اپنی مرحومہ بیٹی کو صرف رہنے کے لیے فلیٹ دیا تھا تو مرحومہ کے انتقال کے بعد یہ فلیٹ والد صاحب ہی کی ملکیت شمار ہوگا ، اور والد کے انتقال کے بعد مرحوم والد کی کل جائیداد بمعہ مذکورہ فلیٹ انہی کے شرعی ورثاء (چار بیٹوں)کے درمیان میراث شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کی جاۓ گی ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه سيأتي."
(کتاب الفرائض ،ج:6،ص:758،ط:سعید)
وفیه أیضا :
"(وتصح بأعرتك) لأنه صريح (وأطعمتك أرضي) أي غلتها؛ لأنه صريح مجازا من إطلاق اسم المحل على الحال....(وداري) مبتدأ (لك) خبر (سكنى) تمييز أي بطريق السكنى (و) داري لك (عمرى) مفعول مطلق أي أعمرتها لك عمرى (سكنى) تمييزه يعني جعلت سكناها لك مدة عمرك (و) لعدم لزومها (يرجع المعير متى شاء)....الخ"
(کتاب العاریة ،ج:5،ص:677،ط:سعید)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101621
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن