بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ذو الحجة 1447ھ 15 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، تین بیٹیوں، پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے پھوپھا کا انتقال ہوگیا ہے،  ورثاء میں  ایک بیوہ ، تین بیٹیاں ،  پانچ بھائی، ایک بہن ہے،  نرینہ اولاد کوئی نہیں،  ماں باپ کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔

ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ اولاً مرحوم کی جائیداد میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل ترکے سے ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی حصے سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد کو 792 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 99 حصے، ہر ایک بیٹی کو 176 حصے، ہر ایک بھائی کو 30 حصے اور بہن کو 15 حصے ملیں گے۔

مرحوم پھوپھا  24 - 792

بیوہبیٹیبیٹیبیٹیبھائیبھائیبھائیبھائیبھائیبہن
3165
99176176176303030303015

یعنی: فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو 12.50 فیصد، ہر ایک بیٹی کو 22.222 فیصد، ہر ایک بھائی کو 3.787 فیصد اور بہن کو 1.893 فیصد ملے گا۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں