بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کے مکان میں وارث کا رہنا اور کرایہ کا طے نہ ہونا


سوال

ہماری والدہ کا انتقال تقریبا  تین سال اور چار ماہ  قبل ہوا ہے۔والدہ کے ساتھ چھوٹے بھائی کی رہائش تھی۔ انتقال کے بعد ہم ورثاء نے گھر کی تقسیم کا مطالبہ کیا  تو چھوٹے بھائی نے عذر کیا کہ وہ ابھی کرایہ ادا نہیں کر سکتے۔ طے یہ ہوا کہ ایک ماہ بعد اس مکان کو تقسیم کر دیں گے ۔

ہم ورثاء نے وقتا فوقتا گھر کو بیچنے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے وہی عذر کیا۔ ہم نے ان سے کہا کہ پھر آپ کرایہ ادا کریں لیکن بھائی نے کرایہ بھی ادا نہیں کیا۔

 اب بہت کوششوں کے بعد جب وہ گھر فروخت نہیں ہو سکا تو ہم نے اس کو تین لاکھ روپے کرائے پر دے دیا۔

 ہمارا بھائی سے مطالبہ ہے کہ وہ اس مدت کا کرایہ ادا کریں جس میں وہ رہائش پذیر تھے لیکن ان کا جواب یہ ہے کہ ہماری کوئی بات آپس میں طے نہیں ہوئی تھی۔

 براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر پہلے سے کوئی کرایہ طے نہیں کیا گیاتھا، تو ایسی صورت میں اب تک رہائش پذیر رہنے کی وجہ سے کوئی کرایہ لازم نہیں ہے۔لہٰذا  سائل اوردیگر ورثاء کو مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہے۔البتہ  چھوٹے بھائی  کا  میراث کی تقسیم میں مذکورہ عذر کے باعث تاخیر کرنا شرعادرست نہیں  تھا،اس پر توبہ  اور استغفار کرنالازم ہے۔ 

الدر مع الرد میں ہے:

"قلت: وفي القنية لا يلزم الحاضر في الملك المشترك أجر، وليس للغائب استعماله بقدر تلك المدة؛ لأن المهايأة بعد الخصومة."

(کتاب الشرکة، ج:4، ص: 304، ط: سعید)

وفيه أیضاً:

"لو واحد من الشريكين سكن … في الدار مدة مضت من الزمن...فليس جی للشريك أن يطالبه … بأجرة السكنى ولا المطالبه...بأنه يسكن من الأول … لكنه إن كان في المستقبل...يطلب أن يهايئ الشريكا … يجاب فافهم ودع التشكيكا.

(کتاب الشرکة،‌‌ فصل في الشركة الفاسدة،ج: 4،ص:337، ط: سعید)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة ٩٦) : لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (المادة ٩٧) : لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي".

 

(المقالة الثانية فی بیان القواعد الکلیة الفقهية، ص:27، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں