
میرے والد مرحوم کے پاس کچھ سونے کازیور تھا،انہوں نے کہا تھا کہ اسے بیچ کر خیرات کردینا، مگر ان کی بیماری اور انتقال سے پہلے یہ کام نہ ہوسکا، بعد میں ہم نے وہ زیور بیچ دیا اور اس کی رقم محفوظ کرلی،اس دوران میں نے بعض حاجت مند افراد کی مدد کی ، اس وقت میرے ذہن میں یہی تھا کہ اپنے پاس سے پیسے دےدیے باقی یہ نہ نیت تھی کہ والد کی طرف سے خیرات کررہا ہوں اور نہ ہی اپنی طرف سے خیرات کر رہا ہوں، بعد میں جب گھر آکر والد مرحوم کے مال کی رقم دیکھی توخیال آیا کہ جو رقم میں نے دی تھی وہ والد کی طرف سے شمار ہوجائے چناچہ میں نے اتنی رقم والد کے مال میں سے اپنے لیےمنہا کرلی ۔اب سوال یہ ہے کہ :کیا یہ طرز عمل درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے والد مرحوم کی زندگی میں ان کا مال صدقہ نہیں کیا ،اس لیے وہ مال والد کی وفات کے بعد ترکہ میں داخل ہوگیا ،جس میں تمام ورثاء اپنے حصوں کے مطابق شریک ہیں، لہذا ان کی اجازت کے بغیر اس مال کو صدقہ کرنا جائز نہیں ۔اور سائل نے اپنی طرف سے جو صدقہ کردیا ہے وہ اس کی جانب سے نفلی صدقہ شمار ہوگا ،میت کی طرف سے نہیں ۔اسی لیے اسے ترکہ میں سے اپنی دی ہوئی رقم منہا کرنا جائز نہیں ، بلکہ وہ رقم ترکہ میں واپس کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الأخر إلا بأمره."
(كتاب الشركة،ج:2،ص:301،ط:رشيديه)
الدرالمختار میں ہے:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغصب،ج:6،ص:200،ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100263
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن