
(1) گھریلو اشیاء کی تقسیم کے بارے میں یہ راہ نمائی درکار ہے کہ کراکری، کپڑے (سلے ہوئے اور بغیر سلے ہوئے)، باورچی خانے کے آلات، فرنیچر، موبائل اور دیگر متعلقہ اشیاء کیا تقسیم سے پہلے رشتہ دار یا دیگر افراد استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز کیا یہ اشیاء تقسیم سے قبل براہِ راست ضرورت مندوں کو دی جا سکتی ہیں؟ خاص طور پر وہ اشیاء جو بازار میں فروخت کے قابل نہیں ہوتیں، جیسے استعمال شدہ سلے ہوئے سوٹ، کراکری کے برتن، پردے، بیڈ شیٹس وغیرہ، جبکہ بعض اشیاء غیر استعمال شدہ بھی ہیں۔نیز ہم نے وراثت کی باقاعدہ تقسیم سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء اور سلے ہوئے اور بغیر سلے ہوئے کپڑے ضرورت مندوں کو دیے ہیں تو کیا یہ عمل درست تھا؟
(2)روزہ، زکات اور فدیہ کے بارے میں بھی وضاحت مطلوب ہے؛ کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ مرحومہ نے یہ واجبات پہلے ادا کیے تھے یا نہیں؟
(3) اگر جائیداد کا خریدار دستیاب نہ ہو تو کیا جائیداد کو کرایہ پر دے کر اس کی آمدنی ضرورت مندوں کو صدقہ جاریہ کے طور پر دی جا سکتی ہے؟ وراثت کے اثاثے اپنے پاس رکھنا جائز ہے یا انہیں ضرورت مندوں کو دینا لازم ہے؟
(4)اسی طرح زیورات، نقدی اور جائیداد کی شرعی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟مرحومہ کے ورثاء میں : دوبھائی اور دو بہنیں ہیں، کوئی اولاد نہیں ہے۔
(1) صورتِ مسئولہ میں ترکہ میں موجود تمام اشیاء (چاہےسلے ہوئے اور بغیر سلے ہوئےکپڑے ہوں،یا باورچی خانے کے آلات، فرنیچر، موبائل وغیرہ ہوں) تمام ورثاء کے درمیان مشترک ہیں، عاقل بالغ ورثاء کی اجازت کے بغیر کسی رشتے دار وغیرہ کا یہ چیزیں استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں تو ان کو اختیار ہے کہ تمام اشیاء تقسیم کرکے خود استعمال کریں یا دیگر رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کو دےدیں، نیز مرحومہ کی جو چیزیں تمام عاقل بالغ ورثاء نےباہمی رضامندی سے ضرورت مندوں کو دی ہوں تو یہ عمل ان کے لیے باعث ثواب ہوگا، البتہ اگر کسی ایک وارث نے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر ضرورت مندوں کو دی ہوں تو وہ دیگر ورثاء کے لیےان چیزوں کی قیمت کا ضامن ہوگا، نیز اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہو تو اس کے حصے میں کسی کو تصرف کا اختیار نہیں ہوگا۔
(2)ورثاء پر انتقال کرنے والے کے روزوں اور نمازوں کا فدیہ اور ذمہ میں رہ جانے والی زکات کی ادائیگی تب لازم ہوتی جب مرحوم کے ذمہ یہ واجبات ہوں اور اس نے ورثاء کو وصیت کی ہو، لہذا جب مذکورہ واجبات میں سے کچھ باقی ہونے کا علم نہیں اور نہ ہی مرحومہ نے اس سلسلے میں کوئی وصیت کی ہے تو فدیہ و زکات کی ادائیگی بھی لازم نہیں ہے۔
(3) مرحومہ کی تمام جائیداد ورثاء کا حق ہے، ان کوباہمی رضامندی سے جائیداد بیچنے اور کرایہ پر دینے کا اختیار حاصل ہے ،اسی طرح ورثاء کو اختیار ہے کہ کے وراثت کے اثاثے اپنے پاس رکھیں اور اس کا کرایہ بھی خود وصول کریں، یا ضرورت مندوں کو دیں، لہٰذاان کی رضامندی کے بغیر جائیداد یا اس کا کرایہ صدقۂ جاریہ وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے۔
(4) مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی مال کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ) کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے دو ، دو حصے مرحومہ کے ہر ایک بھائی کو اور ایک، ایک حصہ مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:6
| بھائی | بھائی | بہن | بہن |
| 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے33.333 فیصد مرحومہ کے ہر ایک زندہ بھائی کو، 16.666 فیصد مرحومہ کے ہر ایک بہن کو ملے گا۔
دررالحکام میں ہے:
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."
(دررالحکام،الباب الرابع فی بیان المسائل التی تتعلق بمدۃ الإجارۃ، ج:1، ص:559، ط: دارالجیل)
فتاوی شامی میں ہے :
"وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا.
وفی الرد: قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ"
(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الفرائض ، 6، ص:760، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"أنه لو مات من عليه الزكاة لاتؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها، وهو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات."
(كتاب الزكوة، شروط اداء الزكوة، ج:2، ص:227، ط:دارالكتاب الاسلامى)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100578
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن