
میرے ماموں نے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیا جب ان سے اس کے بارے میں کہا جائے تو کہتے ہیں کہ نانا نے 16 تولہ سونا شادی میں دیا تھا،اور کہاتھا کہ اب اور کچھ نہیں ہے۔
کبھی یہ کہتے ہیں کہ بڑے ماموں نے جائیداد پر قبضہ کیا تھا ان سے میں نے پیسے دے کر خریدا ہے لہذا تمہار کوئی حصہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تمام جائیداد اس کے ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے اعتبار سے مشتر ک ہوتی ہے،اور کسی بھی وارث کےلیے اس جائیداد میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا، صورت مسئولہ میں اگر سائل کے ایک ماموں نے واقعۃ تمام جائیداد پر قبضہ کرکے اس کو سائل کے دوسرے ماموں کو فروخت کردیا تھا تویہ بیع جائز نہیں تھی،لہذا اب یہ بیع موقوف ہوگی اگر تمام ورثاء اس بیع کی اجازت دیں تو نافذ ہوجائے گی،لیکن اگر تمام ورثاء اس کی اجازت نہ دیں تو پھر سائل کے ماموں پر لازم ہے کہ وہ متروکہ جائیداد واپس لے کراس کی شرعی تقسیم کرکے ہر ایک وارث کو اس کا حصہ دے دے،احادیث مبارکہ میں کسی وارث کو وراثت سے محروم کرنے کے بارے میں سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
اور اگر سائل کی ماموں کو واقعۃ اس کے والد نے اپنی زندگی میں 16 تولہ سونادیا تھا تو وہ والد کی طرف سے ہبہ(گفٹ)تھا،اور قبضہ کرنے کے بعد وہ اس کی ملکیت ہوچکاتھا لہذا اس میں دوسرے ورثاء کےلیے کوئی حق نہیں ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه."
ترجمہ"ابو حُرَّہ رُقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خبردار! ظلم نہ کرنا، خبردار! کسی شخص کا مال (کسی دوسرے کے لیے) حلال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے دل کی خوشی اور رضامندی سے دے۔"
(كتاب البيوع،باب الغصب والعارية،الفصل الثاني،ج:2،ص: 889ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ."
(باب تحريم الظلم وغصب الأرض،ج:5،ص: 58،ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
بدائع الصنائع میں ہے:
"الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما.
(أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.
(وأما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئا فيكون الموروث مشتركا بينهما شركة ملك."
(كتاب الشركة،أنواع الشركة،ج:6،ص: 56،ط:دار الكتب العلمية)
وفيه ايضا:
"فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين."
(كتاب الشركة،فصل في حكم الشركة،ج:6،ص: 65،ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ."
(كتاب الهبة،ج:5،ص: 688،ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144611101220
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن