بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں سے کچھ لیے بغیر دست بردار ہونے کے بعد حصہ کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟


سوال

میرے والد کے ترکہ میں ایک کنال چار مرلہ گاؤں میں گھر تھا، والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ میں نے کہا تھا کہ میں حصہ نہیں لوں گا، آپ والدہ، بہن، بھائی آپس میں تقسیم کرلیں۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں، دو بہنیں ہیں، ایک میری والدہ ہیں۔ پھر میرے بڑے بھائی نے ہم دو بھائیوں سے جھگڑا کیا اور توڑ پھوڑ کی، تو میں نے کہا کہ اب تو میں گاؤں کی زمین میں حصہ لوں گا۔ جرگہ کے دو بڑے بندوں کو بھی کہا ہے کہ میں حصہ لوں گا۔

اب سوال یہ ہے کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ میں حصہ نہیں لوں گا، اب لے رہا ہوں تو کیا شرعاً میں اب حصہ لے سکتا ہوں اور اس بناء پر میں گناہگار تو نہیں ہوں گا؟

نوٹ: وراثت تقسیم نہیں کرنی، صرف اسی ایک سوال کا جواب درکار ہے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے قبضہ سے پہلےیا بلا عوض دستبردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےتو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد اپنا حصہ کسی  کو دینا چاہے  یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے، اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو)  صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ بھی درست ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے کچھ لیے بغیر والد کے ترکہ سے دستبردار ظاہر کی تھی تو  سائل کا اس طرح دست بردار ہونا معتبر نہیں ، لہذا سائل بدستور والد کے ترکہ میں بطور وارث کے شریک شمار ہوگا اور سائل کو اپنا حصہ  لینے کا حق حاصل ہوگا۔اور سائل  حصہ وصول کرنے کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوگا۔

البتہ لڑائی جھگڑے کو شرعاً ناپسند کیا گیا ہے ، لہذا جھگڑے کے بجائے باہمی افہام و تفہیم یا خاندان کے معتمد ،بزرگ افراد کے ذریعے اپنے مسئلے کو حل کرلیا جائے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط."

(کتاب الدعوی، باب التحالف، ج: 8، ص: 116، ط: دارالفکر)

وفيہ ايضا:

"ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الإرث جبري لا يصح تركه اهـ."

(کتاب الدعوی، باب دعوی النسب، ج: 8، ص: 208، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں