بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم میں کسی غیر محرم کو وکیل بنانا کیسا ہے جبکہ محرم موجود ہو؟


سوال

ہم نے دارالافتاء سے میراث کی تقسیم کے حوالے سے فتوی لیا ہے، اب ہماری دو بڑی بہنوں نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ ایک بہن اپنے اختیارات اپنے شوہر کے بھائی کو دے گی اور ایک بہن اپنے بیٹوں کو، کہ وہی ان کے متعلق بٹوارے میں شریک ہوں اور حصہ وصول کریں۔

اب سوال یہ ہے کہ بہنوں کی موجودگی میں ایک بہن کے دیور کا اور ایک بہن کے بیٹوں کا شریک ہونا کیسا ہے؟ یعنی کل اختیارات ان کو دینا کیسا ہے؟

دو بہنوں میں سے ایک بہن کے شوہر کا انتقال ہواہے اور ایک بہن کا شوہر زندہ ہے مگر پھر بھی سارے اختیارات اپنے شوہر کے بھائی کو دے رہی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں بہنوں کی طرف سے وکیل کا محرم ہونا شرعًا ضروری نہیں، لہٰذا اگر وہ کسی محرم (جیسے بیٹے یا بھائی) یا غیر محرم (جیسے دیور وغیرہ) کو اپنا وکیل مقرر کردیں، اور وہ ان کی جانب سے تقسیمِ میراث میں شریک ہوکر ان کے حصے وصول کرے، تو یہ وکالت شرعًا درست ہے۔ البتہ اگر وکیل   محرم  ہو تو زیادہ بہتر  ہے۔

فتح القدير میں ہے:

"قوله ومن شرط الوكالة أن يكون الموكل يملك التصرف وتلزم الأحكام) فهذان شرطان للوكالة في الموكل لأن الوكيل يملك التصرف من جهة الموكل فلا بد أن يكون الموكل مالكا ليملكه من غيره (و) يشترط أن يكون (الوكيل ممن يعقل العقد ويقصده) لأنه يقوم مقام الموكل في العبارة فيشترط أن يكون من أهل العبارة....

(قوله ويشترط إلى آخره) ما تقدم شرط الوكالة في الموكل وهذا شرطها في الوكيل وهو كونه ممن يعقل العقد ويقصده، أي يعقل معناه: أي ما يلزم وجوده من أنه سالب بالنسبة إلى كل من المتعاقدين جالب إلى كل منهما، فيسلب عن البائع ملك المبيع ويجلب له ملك البدل وفي المشتري قلبهما ويقصده لفائدته وقول بعضهم إن هذا الشرط احتراز عن الهزل: يعني أن من شرط الوكالة أن لا يهزل الوكيل في البيع والشراء."

(كتاب الوكالة، ج: 7، ص: 510/511/512، ط: دار الفکر)

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"قال (كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه إلخ) هذه ضابطة يتبين بها ما يجوز التوكيل به وما لا يجوز، فإن مبناه الاحتياج، فقد يتفق وهو عاجز عن المباشرة فيحتاج إلى التوكيل وقد صح :أن النبي صلى الله عليه وسلم وكل بشراء الأضحية حكيم بن حزام وبالتزويج عمر بن أم سلمة بتزويجها إياه عليه الصلاة والسلام".

(كتاب الوكالة، ج: 7، ص: 501، ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101205

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں