
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ ان کے ترکہ میں ایک مکان، کچھ سونا اور نقد رقم شامل تھی۔ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، جبکہ دادا اور دادی کا انتقال والد سے پہلے ہو چکا تھا۔پھر والدہ کا بھی انتقال ہوا ۔والد ہ نے انتقال سے پہلے سونا اور نقدی ایک بہن کے حوالے کی۔بہن نے نقد رقم مکان کی تعمیر میں خرچ کر دی، اور سونا اس طرح تقسیم کیا کہ ہر بھائی کو دو حصے، اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ دیا۔ اب ایک بھائی مکان پر اکیلے ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ صرف میرا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ مکان ہمارے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں ایک بھائی کا مکان پر اکیلے ملکیت کا دعویٰ جائز نہیں، بلکہ باقی ترکہ کی طرح مذکورہ مکان بھی تمام ورثاءمیں میراث کے شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کیا جائے گایعنی اس کے سات حصے کرکے دو حصے ہر بھائی کو اور ایک حصہ ہر بہن کو ملے گا۔تقسیم کا طریقہ یہ ہے:اگر مکان اتنا بڑا ہو کہ تقسیم کے بعد ہر وارث اپنے حصے سے بآسانی فائدہ اٹھا سکے، تو اسے رقبے کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے۔لیکن اگر مکان کے مختلف حصوں کی قیمت میں فرق ہو (مثلاً ایک جانب کا حصہ زیادہ قیمتی ہو اور دوسری جانب کا کم)، تو ایسی صورت میں پورے مکان کی مجموعی قیمت کا تعین کیا جائے،پھر اسی قیمت کے تناسب سے ورثاء کو ان کے شرعی حصے دیے جائیں۔اور اگر مکان اتنا چھوٹا ہو کہ اس کی عملی تقسیم ممکن نہ ہو یعنی رقبے کے لحاظ سے تقسیم کے بعد ہر وارث اپنے حصے سے استفادہ نہ کر سکتا ہو، تو ایسی صورت میں مکان کو فروخت کر کے اس کی قیمت تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر دی جائے۔اور یہ بھی درست ہے کہ ورثاء باہمی رضامندی سے یہ طے کر لیں کہ مکان کسی ایک یا چند ورثاء کو دے دیا جائے، اورمکان لینے والے باقی ورثاء کو ان کے حصے کی مکمل قیمت ادا کر دیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
(باب الغصب والعاریة، ج: 1، ص: 254، ط: قدیمی كتب خانه)
ترجمہ:"حضرت سعید بن زید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"کہ "جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلماً (ناحق) لے لی، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔"
وفیه أیضاً:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه."
( باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:1، ص: 266، ط: قدیمی كتب خانه)
ترجمہ:"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کہ جس نے کسی وارث کو اُس کے وراثتی حق سے محروم کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت میں سے اس کے (حق) وراثت سے محروم کر دے گا۔"
الدرالمختار میں ہے:
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها للعول."
(كتاب القسمة،ج:6،ص:260،ط:سعید)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے:
"وكذلك إذا كانت دار واحدة بينهم وأخذها اثنان منهم كل واحد منهما طائفة معلومة على أن يردا على الثالث دراهم معلومة فهو جائز."
(كتاب القسمة،الباب الثالث في بيان ما يقسم وما لا يقسم،ج:5،ص:213،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100566
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن