بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

تاریخ کے اعتبار سے نام


سوال

میرے  بیٹے کی ١٧ اگست ٢٠٢٢ کی پیدائش ہے عصر کی نماز سے پہلے ، اس حساب سے اس کا کیا نام ہو  لسٹ بھیج دیں؟

جواب

 واضح رہے  کہ شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا اور اس کو والدین پر اولاد کا حق قرار دیا ، اور جن ناموں کے معنی اچھے نہیں ہیں ان کو رکھنے سے منع کیا، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے لوگوں کے ایسے نام جن کے معنی اچھے نہیں ہوتے ان کو تبدیل کرکے اچھے معنی والے نام رکھ  دیے۔  نام کے اچھا اور بامعنی ہونے کا انسان کی شخصیت پر  اثر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن تاریخ پیدائش کے  اعتبار سے نام  رکھنے کا تصور  درست  نہیں  ہے،  نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو، مثلًا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا وہ اچھا بامعنی لفظ ہو؛ لہذا  بچے  کا نام ایسارکھنا  چاہیے جو  انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام ہو یا ایسا نام ہو جو معنی کے اعتبار سے اچھا ہو۔ہماری ویب سائٹ پر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے اور اچھے اسلامی نام موجود ہیں، جس کا لنک درج ذیل ہے:

اسلامی نام

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود."

(کتاب الاداب ، باب الاسامي جلد ۳ ص:۱۳۴۷ ط:المکتب الاسلامي ، بیروت)

ترجمۃ:"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي وهب الجشمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة» . رواه أبو داود."

(کتاب الاداب ، باب الاسامي جلد ۳ ص : ۱۳۴۹  ط : المکتب الاسلامي ، بیروت)

ترجمہ :"حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ ناموں میں سے ’’عبداللہ‘‘ اور ’’عبدالرحمٰن‘‘ ہے، اور مصداق کے اعتبار سے سب سے سچے نام ’’حارث‘‘ اور ’’ہمام‘‘ ہیں۔ اور سب سے برے نام ’’حرب‘‘ اور ’’مرہ‘‘ ہیں۔"

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144401101566

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں