
ایک وراثتی زمین ہے جو کہ 12 بہن بھائیوں کے درمیان مشترک تھی، جس پرایک بھائی نے دیگر ورثاء سے پوچھے بغیرایک مسجد اور مارکیٹ بنائی جس پر دیگر ورثاء نے روز اول ہی سے شور شرابا کیا لیکن اس بھائی نے پیسوں کا اثر رسوخ دکھا کر بھائیوں بہنوں پر جھوٹی FIR درج کرا دی،اور بھائیوں کو جیل بھجوا دیا، اور ورثاءسے کسی قسم کی مصالحت کرنے کو تیار نہیں ہے، نہ ہی ان کو حصہ دیتا ہے اور نہ ہی کسی اور بات پر راضی ہو تاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی متنازع زمین پر مسجد بنانا جائز ہے؟کیا اس طرح کی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟اور اب وہ شخص وہاں امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کسی وارث کو اس کے حق سے محروم کرنا اور وراثت میں اس کا حق نہ دینا غصب کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔اوراس کے بارے میں شریعت میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی"۔ایک اور حدیث میں ہے:"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔"
نیز مسجد ایسی جگہ پر بنائی جائے جو ہر طرح کے نزاع سے پاک ہو اور مسجد کے لیے وقف ہو، اور وقف کرنے کے لیے اس جگہ کا مالک ہونا شرط ہے، چنانچہ کسی وارث کی اجازت کے بغیر اس کے حصہ میں مسجد تعمیر کرنا یا اس کے حصہ کو مسجد میں شامل کرناجائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے مذکورہ بھائی کا والد کی میراث میں سے بہن بھائیوں کا حصہ دیے بغیر ان کا حصہ مسجد میں شامل کرنا جائز نہیں ہے، اور ان بہن بھائیوں کے حصہ کے بقدر جگہ پر شرعی مسجد کےاحکام جاری نہیں ہوں گے۔جب تک کہ وہ بہن بھائی اس کی اجازت نہ دے دیں یا مذکورہ بھائی ان سب کو ان کےحصے کی رقم ادا کر کے راضی نہ کر لے۔
نیز تمام ورثاء کو ان کا حصہ ادا کیے جانے سے پہلے اس جگہ پرنماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ مکمل زمین اپنے حصے سے ہو تونماز ہو جائے گی، نیز مذکورہ شخص بہن بھائیوں کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے غاصب شمار ہوگا اور ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح."
(کتاب الوقف، مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة، ج:4، ص:340، ط: سعيد)
دررالحكام شرح مجلۃ الاحكام ميں ہے:
"والحاصل كما أنه يلزم رد المغصوب إذا كان منقولا يلزم رده أيضا إذا كان عقارا ويبرأ الغاصب إذا رد المغصوب وأعاده على الوجه المحرر ."
(الكتاب الثامن الغصب، (المادة 890) رد المال المغصوب عينا وتسليمه إلى صاحبه في مكان الغصب، ج:2، ص:516، ط:دارالجيل)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب."
(کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ، ج:1، ص:109، ط: دارالفکر)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
"جو شخص لوگوں کےحقوق و دیون باوجود استطاعت کے ادا نہ کرےاور مار لیوے وہ ظالم اور فاسق ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔"
(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ والجماعۃ، ج: 3، ص: 101، ط:دار الشاعت کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701102029
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن