بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چار بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد ہماری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ والدِ مرحوم کا ایک مکان تھا، جسے ہم نے فروخت کر دیا ہے۔ ہم کل چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ہمارے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ اور کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین کا ترکہ  تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 10 حصّوں میں تقسیم کرکے دو دو حصّے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصّہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:10

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
222211

یعنی متروکہ مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے فیصد کے اعتبار سے %20 ہر ایک بیٹے کو اور %10 ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں