بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیوہ، ایک بیٹی اور دو بھائیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا۔ اس کے ورثاء میں دو بیوہ، ایک بیٹی اور دو بھائی شامل ہیں، جبکہ مرحوم کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ شرعی طور پر مرحوم کی وراثت مذکورہ ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ اس کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 16 حصّوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو،8  حصّے بیٹی کو، اور 3 ، 3 حصے ہر ایک بھائی کو  ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:16/8

بیوہبیوہبیٹیبھائیبھائی
143
11833

یعنی فیصد کے اعتبار سے %6.25 مرحوم کی ایک بیوہ کو، %50 بیٹی کو، اور %18.75 ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں