بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، تین بیٹۓ اور ایک بیٹی کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے والد صاحب کا 2020ء میں انتقال ہوگیا۔ ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں، جب کہ والد صاحب کے والدین ان کی زندگی ہی میں انتقال کر چکے تھے۔

والد صاحب کے ترکہ میں ایک مکان تھا، جو کہ ابھی آٹھ کروڑ روپے میں فروخت ہوا ہے۔ یہ رقم مذکورہ ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ اور ہر وارث کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ ان کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 8 حصّوں میں تقسیم کرکے ایک حصّہ مرحوم کی بیوہ کو، دو دو حصّے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصّہ بیٹی کو ملے گا۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹی
12221

یعنی متروکہ مکان کی فروختگی سے حاصل ہونے والی رقم آٹھ کروڑ روپے میں سے ایک کروڑ مرحوم کی بیوہ کو، دو دو کروڑکر کے ہر ایک بیٹے کو، اور ایک کروڑ بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100567

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں