بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، والدہ اور دو بیٹوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے بھائی کا انتقال 2019ء میں ہوا۔ اس وقت مرحوم بھائی کے ورثاء میں بیوہ، والدہ اور دو بیٹے شامل تھے۔ اب ہم اس بھائی کی میراث تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مرحوم بھائی کی میراث میں والدہ کا حصّہ بنتا ہے یا نہیں؟ اگر حصّہ بنتا ہے تو کتنا؟ اور اس کے علاوہ دیگر ورثاء کو کتنا کتنا حصّہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے مرحوم بھائی کے ورثاء میں والدہ بھی شامل ہیں، مرحوم کی میراث میں ان کا بھی حصّہ ہے۔ چنانچہ مرحوم بھائی کا ترکہ ان کے مذکورہ ورثاء (بیوہ، والدہ، اور دو بیٹوں) کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 48 حصّوں میں تقسیم کرکے 6 حصّے مرحوم کی بیوہ کو، 8 حصّے والدہ کو، اور 17/17 حصّے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:48/24

بیوہوالدہبیٹابیٹا
3417
681717

یعنی فیصد کے اعتبار سے %12.50 مرحوم کی بیوہ کو، %16.66 والدہ کو، اور %35.41 ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں