بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جب کہ مرحوم کی بیوی اور والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔

مرحوم کے ترکہ میں 6 ایکڑ زمین ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ مذکورہ ورثاء کے درمیان اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کو ان کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کل ترکہ میں سےتجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کےذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کےبعد،اور اگر مرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کےایک تہائی سے اسے نافذ کرنےکے بعد باقی  ماندہ ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 7 حصّوں میں تقسیم کرکے 2/2 حصّے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور  ایک حصّہ بیٹی کو ملےگا۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:7

بیٹابیٹابیٹابیٹی
2221

یعنی چھ ایکڑ کی زمین میں سے 28.57 فیصد حصّہ (یا مذکورہ زمین فروخت کرنے کی صورت میں اس کے بقدر رقم) مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 14.28 فیصد حصّہ اس کے بقدر رقم اس کی بیٹی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101818

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں