
ایک وارث نے ترکہ کے مشترکہ زیورات دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر بیچ کر ان کی قیمت اپنی ضروریات میں لگادی ، اب دس سال بعد تقسیم وراثت کے وقت باقی ورثاء ان زیورات میں اپناحصہ کیسے وصول کریں گے؟
واضح رہے کہ آدمی کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کے تمام ورثاء کا شرعی حق ہوتاہے ، کسی بھی وارث کے لیے دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر ترکہ کی کسی بھی چیز میں تصرف کرنا جائزنہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذكوره وارث كا دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر ترکہ کے زیورات کو بیچ کر رقم اپنی ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں تھا، نیز اب وراثت کی تقسیم کے وقت اس کے ذمہ ترکہ کے بیچے گئے زیورات کے مثل زیورات یا دیگر ورثاء کی رضامندی سے ان زیورات کی موجودہ قیمت ادا کرنا ضروری ہوگا۔اور وہ زیور ات یا ان کی موجودہ قیمت تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وأما حكمه فالإثم والمغرم عند العلم وإن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا."
(کتاب الغصب، ج:5، ص:119، ط:رشیدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفيه أيضا أن ضمان المثليات بالمثل لا بالقيمة."
(کتاب البیوع، فروع فی البیع، ج:4، ص:516، ط:سعید)
درر الحکام شرح مجلة الاحکام میں ہے:
"(لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته)."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 96) ، ج:1، ص:96، ط:دارلجيل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101532
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن