بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی رقم کسی ایک وارث کو بطور تعاون دینا


سوال

میری والدہ کے آٹھ بچے ہیں، میری والدہ کو ان کے بچے خرچہ دیتے رہے لیکن ایک موقع پر میرے بڑے بھائی نے میری والدہ کو بیس ہزار روپے دیےجس سے میری امی نے میری بہن کے لیے زیور خرید کر رکھ لیا تھا، جو صرف میرے بڑے بھائی کے پیسوں کا تھا، لیکن میری بہن کا شادی سے پہلے انتقال ہوگیااور اب میری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے، جس وقت زیور لیا تھا، اس وقت اس کی قیمت بیس ہزار تھی، اب اس کی قیمت چار لاکھ روپے ہے۔

میرے چار بھائی برسرروزگار ہیں، ایک بھائی دس سال سے بے روز گارہے، اور اس کی شادی بھی نہیں ہوئی ہے، ہم دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ زیور بے روز گار بھائی کو دے دیں یا سارا زیور تمام بھائی اور بہنوں میں تقسیم ہوگا؟

وضاحت: وہ رقم بھائی نے والدہ کو بیس ہزار بطور خرچ کے دیے تھے کہ والدہ جہاں چاہیں، خرچ کریں۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کے بھائی نے جب  بیس ہزار روپے کی رقم اپنی والدہ کو بطور ملکیت کے ان کے اخراجات کے لیے دی تھی، اور اس میں والدہ کو تصرفات کا کلی اختیار تھا تو وہ رقم والدہ کی ملکیت میں آگئی تھی، اس کے بعد والدہ نے جب اس رقم کا زیور بنوایا تو وہ بھی والدہ کا ہی مملوکہ تھا، اب والدہ کے انتقال کے بعد وہ زیور ان کے تمام ورثاء میں میراث کے شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا، اس طور پر کہ تمام بیٹوں کو دوہرا اور تمام بیٹیوں کو اکہرا حصہ ملے گا، البتہ اگر تمام ورثاءرضامندی کے ساتھ  تعاون کی نیت سے اپنے کسی ایک بھائی کو مکمل زیوردینا چاہیں تو  دے سکتے ہیں، نیز اگر ایسا کریں تو یہ دیگر ورثاء کے لیے باعث اجر و ثواب ہوگاتاہم اس پر کسی کو مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، ج: 4، ص: 61، ط: سعيد)

دررالحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك."

(الكتاب الثاني الإجارة، الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة، ج: 1، ص: 559، ط: دارالجيل)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101929

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں