
(1)تراویح کی نیت کیسے کی جاتی ہے اس کے الفاظ کیا ہے ، کیا ہر دو رکعت کے لیے الگ نیت کرنا ضروری ہے ؟
(2). نمازِ تراویح کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ (الحمدللہ) سے پہلے ثناء، تعوذ اور بسم اللہ پڑھی جاتی ہے یا نہیں؟ میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر امام صاحب فوراً الحمدللہ شروع کر دیتے ہیں۔
(3). نمازِ تراویح میں التحیات کے بعد جب درود شریف پڑھ رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات امام صاحب سلام پھیر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا جہاں تک درود پڑھ لیا ہو وہیں چھوڑ کر فوراً سلام پھیر دینا چاہیے؟
(1) تراویح کی نماز رمضان المبارک کے قیام اللیل،یا تراویح یاسنت نماز کی نیت سےادا ہوجاتی ہے،اسی طرح (تراویح کے امام کے پیچھے)امام والی نماز کی نیت سے بھی تراویح اداہوجاتی ہے، نیز مطلق نفل یا سنت کی نیت کر لے تو یہ نیت بھی کافی ہوگی، البتہ بہتر یہ ہے متعین کرکے نیت کرلے کہ ”میں دو رکعت تراویح کی نماز پڑھنے کی نیت کرتا ہوں“ اگر امام کے پیچھے ہو تویہ نیت کرے کہ” میں دو رکعت تراویح کی نماز اس امام کی اقتدا ء میں ادا کرنے کی نیت کرتا ہوں“۔یہ نیت دل سے کرے تب بھی کافی ہے ، البتہ نیت کے الفاظ اگر زبان سے ادا کرلے تو بہتر ہے،یاد رہے کہ تراویح کی نماز میں بہتر اور افضل یہ ہے کہ ہر دو رکعت کے بعد از سرِ نو نیت کیا جائے ، یعنی ہر دو رکعت کے لیے علیحدہ نیت کی جائے اور اگر شروع میں ہی 20 رکعت نمازِتراویح کی نیت کر لے تو یہ بھی جائز ہے۔
(2)مقتدی امام کے پیچھے صرف پہلی رکعت میں ثناء پڑھے اس کے بعد خاموش رہے تعوذ اور تسمیہ نہ پڑھےکیوں کہ یہ قرات کے تابع ہے ۔
(3)مقتدی کے تشہد پڑھنے کے بعد درود شریف پڑھنےسے پہلےیا درود شریف پڑھنے کے دوران امام سلام پھیر دے تو مقتدی بھی امام کے ساتھ سلام پھیر د ے اس کی نماز اداء ہوجائے گی ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والمؤتم لا يقرأ مطلقا)"
(كتاب الصلاة،فصل في القراءة،ج:1،ص:544،ط:سعيد)
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"ومنها نية التراويح أو نية قيام رمضان، أو نية سنة الوقت. ولو نوى الصلاة مطلقا، أو نوى التطوع، قال بعض المشايخ: لا يجوز؛ لأنها سنة والسنة لا تتأدى بنية مطلق الصلاة، أو نية التطوع واستدلوا بما روى الحسن عن أبي حنيفة أن ركعتي الفجر لا تتأدى إلا بنية السنة، وقال عامة مشايخنا: إن التراويح وسائر السنن تتأدى بمطلق النية؛ ولأنها وإن كانت سنة لا تخرج عن كونها نافلة، والنوافل تتأدى بمطلق النية إلا أن الاحتياط أن ينوي التراويح، أو سنة الوقت، أو قيام رمضان احترازا عن موضع الخلاف."
(کتاب الصلوٰۃ ، فصل فی سنن التراویح ،ج:1،ص:288،ط:دار الکتب العلمية )
مجمع الانھر میں ہے:
"(وضم التلفظ إلى القصد أفضل) لما فيه من استحضار القلب لاجتماع العزيمة به قال محمد بن الحسن: النية بالقلب فرض، وذكرها باللسان سنة، والجمع بينهما أفضل......وفي القنية أنها بدعة إلا إذا كان لا يمكنه إقامتها في القلب إلا بإجرائها على اللسان فحينئذ تباح، وكيفية التلفظ أن يقول: اللهم إني أريد أداء صلاة ظهر اليوم أو فرض الوقت مستقبل القبلة فيسرها لي وتقبلها مني، وعلى هذا سائر العبادات."
(کتاب الصلوٰۃ،باب شروط الصلوٰۃ،ج:1،ص:85،ط:دار إحياء التراث العربي بيروت لبنان)
فتاوی شامی میں ہے:
"وهل يشترط أن يجدد في التراويح لكل شفع نية؟ ففي الخلاصة: الصحيح نعم لأنه صلاة على حدة وفي الخانية: الأصح لا، عين الكل بمنزلة صلاة واحدة كذا في التتارخانية. وظاهره أن الخلاف في أصل النية ويظهر لي التصحيح الأول لأنه بالسلام خرج من الصلاة حقيقة فلا بد في دخوله فيها من النية، ولا شك أنه الأحوط؛ خروجا من الخلاف، نعم رجح في الحلية الثاني إن نوى التراويح كلها عند الشروع في الشفع الأول كما لو خرج من منزله يريد صلاة الفرض مع الجماعة ولم تحضره النية لما انتهى إلى الإمام."
(كتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاة التراويح، 2/ 44، ط: سعيد)
فتا وی ہندیہ میں ہے:
"ولو سلم الإمام قبل أن يفرغ المقتدي من الدعاء الذي يكون بعد التشهد أو قبل أن يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم فإنه يسلم مع الإمام."
(كتاب الصلاة وفيه اثنان وعشرون بابا، الفصل السابع في المسبوق واللاحق،ج:1،ص:100،ط:قديمي كتب خانه)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100585
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن