بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی جماعت میں خواتین کی شرکت کا شرعی حکم


سوال

ہماری مسجد سے متصل بنات کا ایک مدرسہ ہے، جس کی عمارت مسجد کے ساتھ لگی ہوئی ہے، تاہم مدرسے کا راستہ مسجد کے راستے سے الگ ہے اور وہ مسجد کا حصہ نہیں ہے۔ عام دنوں میں وہاں خواتین بیانات سننے کے لیے آتی ہیں، اور رمضان المبارک میں بھی خواتین کے لیے درس کا اہتمام ہوتا ہے۔ بعض خواتین صرف درس میں شریک ہوتی ہیں اور تراویح گھر میں ادا کرتی ہیں، لیکن اکثر خواتین تراویح میں بھی شریک ہو جاتی ہیں۔ یعنی جب مسجد میں تراویح کی نماز ہوتی ہے تو خواتین مدرسے میں صفیں بنا لیتی ہیں۔

ہم نے انہیں باقاعدہ طور پر نہیں بلایا، لیکن چوں کہ درس کے لیے مدرسے کا دروازہ کھلا ہوتا ہے، اس لیے وہ آ جاتی ہیں۔ مسجد میں خواتین کا تراویح کے لیے آنا مکروہِ تحریمی ہے، لیکن مذکورہ صورت میں کیا حکم ہے؟ کیوں کہ یہ مدرسہ مسجد کی حدود سے باہر ہے، اگرچہ متصل ہے اور مسجد کا حصہ نہیں، نیز پردے کا بھی مکمل اہتمام ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا مدرسے کا دروازہ بالکل بند کر دیا جائے، یا کھلا رکھا جائے اور خواتین کو تراویح ادا کرنے دی جائے؟

نیز جو تراویح خواتین نے جماعت کے ساتھ ادا کر لی ہیں۔ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

آپ ﷺ کے زمانے میں بعض پابندیوں کے ساتھ خواتین کو مسجد آنے کی اجازت تھی، مثلاً یہ کہ وہ عمدہ لباس اور زیورات پہن کر نہ آئیں، خوشبو لگا کر نہ آئیں، اور نماز ختم ہوتے ہی مردوں سے پہلے واپس چلی جائیں۔ تاہم ان پابندیوں کے ساتھ اجازت ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے یہی ترغیب دی  کہ عورتوں کا گھر میں اور پھر گھر میں بھی اندر والے حصے میں  نماز پڑھنا مسجد نبوی میں نماز  پڑھنےسے افضل ہے۔آپ ﷺ کے  پردہ فرمانے کے بعد  جب حالات بدل گئے    اور صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے  اپنے زمانہ میں یہ دیکھا کہ عورتیں اب ان پابندیوں کا خیال نہیں کرتیں  تو   حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں   صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم  اجمعین  کی موجودگی میں عورتوں کو مسجد آنے سے منع کر دیا گیا، اور اس پر گویا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اتفاق ہوگیا۔

اس لیے موجودہ  پر فتن دور  میں خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے گھروں میں نماز اداکریں، یہی ان کے لیے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے؛ لہذا  عورتوں کا گھر سے باہر جاکر مسجد یا کسی بھی دوسری جگہ میں اجتماعی تراویح میں شریک ہونا درست نہیں۔البتہ اگر اس کے باوجود خواتین آ کر جماعت میں شریک ہو جائیں اور مردوں اور خواتین کی صفوں کے درمیان اتصال موجود ہو (یعنی درمیان میں دو صفوں سے زیادہ فاصلہ نہ ہو) تو ان کی نماز ادا ہو جائے گی۔

 

المستدرك للحاكم میں ہے:

" عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها ، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها."

(‌‌كتاب الطهارة، كتاب الإمامة، صلاة الجماعة، ج:1، ص:328، ط:دار الكتب العلمية)

 ترجمہ:”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔“

صحيح البخاری میں ہے: 

"عن عائشة ـ رضي الله عنها ـ قالت: لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل."

(كتاب صفة الصلاة، باب: انتظار الناس قيام الإمام العالم، ج:1، ص:296، ط:دار ابن كثير) 

ترجمہ ” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکات(خوشبو، زینت وغیرہ) کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔“

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان."

(قوله: ولو عجوزاً ليلاً) بيان للإطلاق: أي شابةً أو عجوزاً نهاراً أو ليلاً (قوله: على المذهب المفتى به) أي مذهب المتأخرين. قال في البحر: وقد يقال: هذه الفتوى التي اعتمدها المتأخرون مخالفة لمذهب الإمام وصاحبيه، فإنهم نقلوا أن الشابة تمنع مطلقاً اتفاقاً. وأما العجوز فلها حضور الجماعة عند الإمام إلا في الظهر والعصر والجمعة أي وعندهما مطلقاً، فالإفتاء بمنع العجائز في الكل مخالف للكل، فالاعتماد على مذهب الإمام. اهـ.

قال في النهر: وفيه نظر، بل هو مأخوذ من قول الإمام، وذلك أنه إنما منعها لقيام الحامل وهو فرط الشهوة بناء على أن الفسقة لاينتشرون في المغرب؛ لأنهم بالطعام مشغولون وفي الفجر والعشاء نائمون؛ فإذا فرض انتشارهم في هذه الأوقات لغلبة فسقهم كما في زماننا بل تحريهم إياها كان المنع فيها أظهر من الظهر. اهـ. قلت: ولايخفى ما فيه من التورية اللطيفة. وقال الشيخ إسماعيل: وهو كلام حسن إلى الغاية".

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الإمامة، ج:1 ، ص:566،  ط:سعید)

بدئع الصنائع میں ہے :

"ولا يباح للشواب منهن الخروج إلى الجماعات، بدليل ما روي عن عمر - رضي الله عنه - أنه ‌نهى ‌الشواب عن الخروج؛ ولأن خروجهن إلى الجماعة سبب الفتنة، والفتنة حرام، وما أدى إلى الحرام فهو حرام."

(کتاب الصلاۃ، 157/1، دار الکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله ‌ولا ‌يحضرن ‌الجماعات) لقوله تعالى {وقرن في بيوتكن} [الأحزاب: 33] وقال - صلى الله عليه وسلم - «صلاتها في قعر بيتها أفضل من صلاتها في صحن دارها وصلاتها في صحن دارها أفضل من صلاتها في مسجدها وبيوتهن خير لهن» ولأنه لا يؤمن الفتنة من خروجهن أطلقه فشمل الشابة والعجوز والصلاة النهارية والليلية قال المصنف في الكافي والفتوى اليوم على الكراهة في الصلاة كلها لظهور الفساد ومتى كره حضور المسجد للصلاة فلأن يكره حضور مجالس الوعظ خصوصا عند هؤلاء الجهال الذين تحلوا بحلية العلماء أولى. ذكره فخر الإسلام ".

(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، حضور النساء الجماعات ومجالس الوعظ، 380/1، دار الكتاب الإسلامي)

العنایہ شرح الھدایہ میں ہے:

"(ولا ينوي النساء في زماننا) يعني أن ما قاله محمد من نية النساء كان في زمنهم، ‌وأما ‌في ‌زماننا ‌فلا ‌ينوي ‌النساء؛ ‌لأن ‌حضورهن ‌الجماعات ‌متروك ‌بإجماع ‌المتأخرين."

(كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة ، 1/ 320، ط: دار الفكر)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

”زمانہ مبارکہ میں عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت تھی ، وہ زمانہ خیر القرون کا تھا، فتنوں سے محفوظ تھا، رسول مقبول به نفس نفیس تشریف فرما تھے ، وحی نازل ہوتی تھی ، نئے نئے احکام آتے تھے ، نئے مسلمان تھے، نماز وغیرہ کے مسائل سیکھنے کی ضرورت تھی اور سب سے بڑھ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہوتا تھا ، ان تمام باتوں کے باوجود عورتیں نماز با جماعت پڑھنے کی مکلف نہیں تھیں، صرف اجازت تھی اور افضل یہی تھا کہ عورتیں مکانوں میں چھپ کر اور تاریک تر کمرے میں ( جہاں اجنبی مردوں کی بالکل نظر نہ پڑ سکے ) نماز پڑھیں، اس کی بین دلیل حضرت ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔

۔۔۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو مسجد میں آنے سے  منع فرمایا تو عورتوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی شکایت کی ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جن امور کا علم ہو ااگر یہ حضور ﷺ  کے سامنے یہ امور ظاہر  ہو تے تم کو ( برائے نماز )نکلنے کی اجازت مر حمت نہ فرماتے۔ ہمارے علماء نے اسی  سے استدلال کیا ہے اور نوجوان عورتوں کو مطلقا نکلنے سے منع فرمایا ۔بدئع الصنائع میں ہے :"ولا يباح للشواب منهن الخروج إلى الجماعات، بدليل ما روي عن عمر - رضي الله عنه - أنه ‌نهى ‌الشواب عن الخروج؛ ولأن خروجهن إلى الجماعة سبب الفتنة، والفتنة حرام، وما أدى إلى الحرام فهو حرام.( کتاب الصلاۃ ، 157/1،دار الکتب العلمیۃ)ترجمہ :جوان عورتوں کو جماعت میں شریک ہو نے کے لیے نکلنا مباح نہیں ہے اس روایت کے پیش نظر جو حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے  جوان عورتوں کو  نکلنے سے  منع فرمادیا تھا اور اس وجہ سے عورتوں کا گھرو ں سے نکلنا فتنہ کا سبب ہے اور فتنہ حرام ہے  اور جو چیز حرام تک  پہنچائے وہ بھی حرام ہے“۔

(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ والجماعۃ، 144/4، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101766

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں