
تراویح میں سورۃ الحج کا دوسرا سجدہ امام نے کر لیا اور سجدہ سہو نہیں کیا اب اس دو رکعت تراویح کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ سورۃ الحج کا دوسرا سجدہ احناف کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص نماز میں الگ سے اس آیت پر سجدہ کرے گا تو پھر سجدہ سہو لازم ہوگا۔
صورت ِ مسئولہ میں جب امام نے سورۃ الحج کا دوسرا سجدہ کرلیا تو اس کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو کرنا لازم تھا ،لیکن اس نے سجدہ سہو نہیں کیا تو مذکورہ دو رکعت تراویح کراہت کے ساتھ ادا ہوچکی ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(منها أولى الحج) أما ثانيته فصلاتية لاقترانها بالركوع.
(قوله لاقترانها بالركوع) لأن السجدة متى قرنت بالركوع كانت عبارة عن السجدة الصلاتية كما في قوله تعالى{واسجدي واركعي} [آل عمران: 43] بدائع.
(قوله خلافا للشافعي وأحمد) حيث اعتبرا كلا من سجدتي الحج ولم يعتبرا سجدة ص كما في غرر الأفكار."
(کتاب الصلاۃ، باب سجدہ التلاوۃ، ج: 2، ص: 104، ایچ ایم سعید)
امداد الاحکام میں ہے:
”سوال: نماز تراویح میں" اقترب للناس" کے دوسر ےسجدہ تلاوت پر امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک واجب ہے، سجدہ کیا تو نماز میں کوئی نقص تو نہیں آیا؟
الجواب: کچھ نقص نہیں آیا، اگر یہ سجدہ کرنے والا عالم ہو اور اس کو دلیل سے امام شافعی کے قول کی قوت معلوم ہوگئی ہو اور اگر یہ بات نہ ہو تو پھر اس سجدہ سے اس شخص پر سجدہ سہو لازم آوے گا کیونکہ اس کے امام کے نزدیک اس جگہ سجدہ نہیں تو اس نے نماز میں بلا ضرورت ایک سجدہ بڑھا دیا جس سے تاخیر رکن لازم آئی جو موجب سجدہ سہو ہے۔“
(کتاب الصلاۃ ،فصل فی سجود التلاوۃ، ج: 1، ص :689،مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101369
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن