
کیا تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر کھانا کھلانا درست ہے؟
تراویح میں قرآنِ پاک ختم کرنے کے بعد اگر لوگوں سے چندہ کیے بغیر کوئی ایک یا چند لوگ اپنی خوشی سے کھانے کا اہتمام کرلیں اور اسے لازم نہ سمجھا جائے اور مسجد کے آداب کا بھی خیال ملحوظ رہے تو ختمِ قرآن پر کھانا کھلانا اور کھانا جائز ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى"
ترجمہ :"ابو حرۃ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں :انہوں نے کہا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سن لو،ظلم نہ کرو ،کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ۔"
(كتاب البيوع ،باب الغصب والعارية ،ج: 2 ، ص: 889 ، ط: المکتب الإسلامي ،بيروت)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال:رمضان المبارک میں تراویح میں ختم قرآن ہوتا ہے اس دن شیرینی تقسیم کرنا کیسا ہے؟ 2۔شیرینی صرف ایک شخص کی طرف سے تقسیم ہوتی ہے چندہ نہیں کرتے تو یہ درست ہے یا نہیں ؟
جواب:ضروری نہیں ہے لوگوں نے اسے ضروری سمجھ لیا ہے اور بڑی پابندی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے ،لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے ،مسجدوں میں بچوں کا اجتماع اور شور وغل وغیرہ خرابیوں کے پیش نظر اس دستور کو موقوف کرنا ہی بہتر ہے ۔
امام ِتراویح یا اور کوئی ختم قرآن کی خوشی میں کبھی کبھی شیرینی تقسیم کرے ،اور مسجد کی حرمت کا لحاظ رکھا جائے ،تو درست ہے۔
(مسائل تراویح ،ج:6 ،ص : 243 ،ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101661
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن