بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں تین رکعت پڑھنے کا حکم


سوال

اگر امام صاحب تراویح میں تین رکعت پڑھ لے تو پھر سجدہ سہو کرنے سے وہ دو رکعتیں ادا ہو جائیں گی یا پھر دوبارہ وہ  دو رکعت  لوٹائی  جائیں گی؟

جواب

تراویح کی نمازمیں دورکعت کی بجائے تین رکعت پڑھ لیں اور دسری رکعت پر قعدہ بھی نہیں کیا تو اس صورت میں وہ نماز تراویح شمار نہ ہوگی،  وقت گزرنے کے بعد  تراویح کی نیت سے ان رکعات کا اعادہ مکروہ ہے، ان رکعتوں میں کی گئی تلاوت کا اعادہ لازم ہوگا ،چاہے سجدہ سہو بھی کیا ہو۔

اور اگر دو رکعت کے بعد قعدہ کر لیا تھا تو دو رکعت میں کی گئی تلاوت کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، صرف تیسری رکعت کی تلاوت کا اعادہ  کیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو صلى التطوع ثلاث ركعات ولم يقعد على رأس الركعتين، الأصح أنه تفسد صلاته".

(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل من مندوبات صلاة الضحى،ج:1،ص:113،ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: أو ترك قعود أول) ؛ لأن كون كل شفع صلاة على حدة يقتضي افتراض القعدة عقيبه؛ فيفسد بتركها، كما هو قول محمد، وهو القياس، لكن عندهما لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعل الكل صلاةً واحدةً شبيهةً بالفرض، وصارت القعدة الأخيرة هي الفرض، وهو الاستحسان، وعليه فلو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتبارًا بصلاة المغرب، لكن الأصح عدمه؛ لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة؛ لأن التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها".

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل،ج:2، ص:32، ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي بمصر)

 الجوهرة النيرة  میں ہے:

"وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لايعتد بما قرأه فيه، ويعيد القراءة؛ ليحصل الختم في الصلاة الجائزة". 

(كتاب الصلاة، باب قيام شھر رمضان، ج:1، ص:98، ط:المطبعة الخيرية)

فتاوى هنديہ میں ہے :

"وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره".

(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النو فل فصل في التراويح، ج:1، ص:117، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100568

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں