بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر  مٹھائی تقسیم کرنا


سوال

ماہِ رمضان میں تراویح میں قرآنِ مجید ختم مکمل ہونے پر مسجد میں چندہ لے کر مٹھائی بانٹنا یا چندہ کے بغیر کمیٹی والوں کا یا کسی بھی شخص کی جانب سے مٹھائی بانٹنے کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟

جواب

تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر  مٹھائی تقسیم کرنے سے متعلق حکم یہ ہے کہ  اگر ختم  پر مٹھائی تقسیم کرنے یا کھانا کھلانے  کے لیے لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہو یا  بچوں کا  رش اور شوروغل ہوتا ہو، مسجد کا فرش خراب ہوتا ہو یا اسے لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو تو اس کا ترک کردینا ضروری ہے۔

اور اگر  یہ مفاسد نہ پائے جائیں، بلکہ کوئی خوشی وطیبِ خاطر سے تقسیم کردے یا امام یا سامع کے لیے لے آئے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، ایسی صورت میں  بہتر یہ ہے کہ خشک چیز تقسیم کی جائے، تاکہ مسجد کا فرش وغیرہ خراب نہ ہو اور مسجد کے اندر تقسیم کرنے کے بجائے دروازے پر تقسیم کردیا جائے۔(مستفاد از فتاوی رحیمیہ 6/243) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں