
اگر تراویح کی نماز میں دو رکعت کے بعد غلطی سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں، اور الحمد للہ تک پڑھ کر پیچھے سے لقمہ آئے، تو پھر تشہد میں بیٹھ جائیں، اور بنا سجدۂ سہو کے سلام پھیر دیں، تو کیا وہ نماز ہوجائے گی؟ یا سجدۂ سہو کرنا ضروری تھا؟ اور اس صورت میں ان رکعتوں میں پڑھے ہوئے قرآن کا کیا ہوگا؟
اگر امام تراویح میں تیسری رکعت میں کھڑا ہو گیا تھا تو سجدہ سہو کرنا واجب تھا، سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں ان دو رکعات کو اسی رات لوٹانا ضروری تھا، اور جس قدر قرآن ان دو رکعات میں پڑھا گیا تھا وہ بھی دوبارہ پڑھنا ضروری تھا، رات گزر جانے کے بعد ان دو رکعات کو نہیں لوٹایا جائے گا، البتہ جس قدر قرآن ان دونوں رکعات میں پڑھا گیا تھا، وہ دوبارہ پڑھا جا ئے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لا يعتد بما قرأ فيه ويعيد القراءة ليحصل له الختم في الصلاة الجائزة وقال بعضهم: يعتد بها، كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الصلاۃ،الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج: 1، صفحه: 118، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101902
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن