
اگر تراویح میں سجدہ تلاوت فوت ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ اگر نماز میں آیتِ سجدہ پڑھنے کے بعد اس رکعت میں سجدۂ تلاوت نہ کیا تو سلام پھیرنے تک جب یاد آئے سجدہ تلاوت کرلے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے،لہذا صورتِ مسئولہ میں تروایح کی نماز میں سجدہ تلاوت کی ، اور نماز مکمل کی اور سجدہ ادا نہیں کیا تو نماز کے بعد اس کی قضاء نہیں ہے، البتہ توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن قرأ آية السجدة في الصلاة فإن كانت في وسط السورة فالأفضل أن يسجد ثم يقوم ويختم السورة ويركع ولو لم يسجد وركع ونوى السجدة يجزيه قياسا وبه نأخذ ولو لم يركع ولم يسجد وأتم السورة ثم ركع ونوى السجدة لا يجزيه ولا يسقط عنه بالركوع وعليه قضاؤها بالسجود ما دام في الصلاة."
(كتاب الصلاة، الباب الثالث عشر، ج: 1، ص: 133، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ما لم يتذكر سجدة) أي صلبية، فتفسد الصلاة لوجود القاطع المانع من إعادتها وهو الدعاء المذكور، بخلاف التلاوية والسهوية لأنه لا تتوقف صحة الصلاة على سجودهما، فتتم الصلاة به وإن لم يسجدهما لأنهما واجبتان والصلبية ركن، بل لو سجدهما فهو لغو لأنه بعد قطع الصلاة، كما لو سلم وهو ذاكر لسجدة تلاوية أو سهوية تمت صلاته لخروجه منها بعد تمام الأركان."
(كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 524، ط: سعید)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
سوال: اگر نماز میں سجدہ تلاوت بھول جائے، اور دوسری رکعت میں یاد آوے تو کس طریق سے ادا کرے؟
جواب: اگر سجدہ تلاوت اس رکعت میں کرنا بھول گیا، جس میں سجدہ کی آیت پڑھی تھی تو دوسری تیسری رکعت میں جب یاد آوے کرلے، اور پھر سجدہ سہو کرلے۔
(کتاب الصلاۃ الباب الحادی عشر ، ج: 4، ص: 297، ط: دارالإشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100371
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن