بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تقوی اور فتوی میں فرق اوراس فرق کی حیثیت


سوال

کیا تقوی اور فتوی میں فرق ہے؟ یہ جو بسا اوقات کسی دوسرے کے کپڑے پر معفو عنہ مقدار میں نجاست لگنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ معاف ہے اور پھر اس کو دھو نہیں لیا جاتا اور پھر خود اپنی کپڑوں پر لگ جانے کے بعد اسی معفو عنہ مقدار کو بھی دھو لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ تقوی پر عمل کر رہا ہوں تو اس فرق کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پوری پابندی کرے اور اس کی نافرمانی و معصیت سے بچتا رہے، جبکہ فتوی، حکم شرعی کو سائل کے لئے دلیل شرعی سے واضح کرنے کا نام ہے۔

چنانچہ کسی مسئلہ میں اگر شریعت کی طرف سے رخصت موجود ہو، لیکن انسان احتیاط اور شبہ سے بچنے کی خاطر اس رخصت پر عمل نہ کرے، تو یہ طرزِ عمل تقویٰ کہلاتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس مسئلہ میں شرعی رخصت پر عمل کرے تو یہ فتویٰ کے مطابق عمل کرنا کہلاتا ہے۔یعنی تقویٰ کا تعلق زیادہ احتیاط اور اعلیٰ درجے کے عمل سے ہے، جبکہ فتویٰ پر عمل  شریعت کی جانب سے دی گئی سہولت اور آسانی پر عمل ہے۔ شریعت میں دونوں طریقے جائز ہیں، البتہ تقویٰ پر عمل کرنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے۔مثلًا: مسافر کو شرعاً روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی مسافر اس رخصت پر عمل کرتے ہوئے روزہ نہ رکھے تو یہ رخصت و فتوی  پر عمل ہے، اور اگر وہ سفر کے باوجود روزہ رکھے تو یہ عزیمت پر عمل ہے، جو باعثِ ثواب ہے۔ یہی تقویٰ پر عمل ہے۔ 

باقی سائل کا کہنا کہ” بسا اوقات کسی دوسرے کے کپڑے پر معفو عنہ مقدار میں نجاست لگنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ معاف ہے اور پھر اس کو دھو نہیں لیا جاتا اور پھر خود اپنے کپڑوں پر لگ جانے کے بعد اسی معفو عنہ مقدار کو بھی دھو لیتا ہے۔“یہ بات عمل ہوجانے کے بعد سے متعلق ہے مثلًا: کسی آدمی نے نماز پڑھ لی بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے کپڑے یا جسم پر نجاست لگی ہے تو اگر وہ معفو عنہ مقدار کے برابر یا اس کے کم ہے تو نماز ہوگئی ، اب اس کو لوٹانا واجب نہیں ہے، یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ نجاست لگنے کے علم ہونے کے باوجود اس کو نہ دھوئے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؛کیوں کہ نماز  سے پہلے اگر معلوم ہوجائے پھر بھی نہ دھوئےتو اگرچہ وہ مقدار معفو عنہ کے برابر یا اس سے  کم ہو پھر بھی یہ مکروہ تحریمی ہے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"والفتوى في الاصطلاح: ‌تبيين ‌الحكم ‌الشرعي عن دليل لمن سأل عنه."

(حرف الفاء، فتوی، ج:32، ص:20، ط:دارالسلاسل - الكويت)

وفيه أيضًا:

"أما ‌في ‌اصطلاح ‌الفقهاء ‌فإن ‌التقوى والتقى خصا باتقاء العبد لله تعالى بامتثال أمره واجتناب نهيه والخوف من ارتكاب ما لا يرضاه."

(حرف التاء، ‌‌تقية،ج:13، ص:185، ط:دارالسلاسل - الكويت)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

”تقویٰ اور فتوی کا فرق

( سوال ) تقوی کس کا حکم ہے اور فتوی کس کا حکم ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے۔ اور ان دونوں میں سے ہم پر کسی پر عمل کرنا فرض ہے؟

( جواب ) فتوی یہ ہے کہ جس کو علماء نے بدلیل قرآن و حدیث جائز کہا اس پر عمل کرے اگر چہ بعض وجہ سے اس میں ممانعت بھی معلوم ہوتی ہو اور تقویٰ یہ کہ جہاں شبہ ہو اس کو بھی نہ کرے پہلی کو رخصت کہتے ہیں اور دوسری کو عزیمت دونوں حکم شرع کے ہی ہیں اور دونوں میں جس پر عمل کرے درست ہے رخصت سے باہر نہ نکلے اور تقویٰ کرے تو بڑا اجر ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔“

(کتاب العلم، ص:126، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وعفي قدر الدرهم" وزنا في المتجسدة وهو عشرون قيراطا ومساحة في المائعة وهو قدر مقعر الكف داخل مفاصل.

قوله: "وعفي قدر الدرهم" أي عفا الشارع عن ذلك والمراد عفا عن الفساد به وإلا فكراهة التحريم باقية إجماعا إن بلغت الدرهم وتنزيها إن لم تبلغ وفرعوا على ذلك ما لو علم قليل نجاسة عليهوهو في الصلاة ففي الدرهم يجب قطع الصلاة وغسلها ولو خاف فوت الجماعة لأنها سنة وغسل النجاسة واجب وهو مقدم وفي الثاني يكون ذلك أفضل فقط ما لم يخف فوت الجماعة بأن لا يدرك جماعة أخرى وإلا مضى على صلاته لأن الجماعة أقوى كما يمضي في المسئلتين إذا خاف فوت الوقت لأن التفويت حرام ولا مهرب من الكراهة إلى الحرام أفاده الحلبي وغيره قوله: "وهو قدر مقعر الكف" أصله أن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب سئل عن قليل النجاسة في الثوب فقال: إذا كان مثل ظفري هذا لا يمنع جواز الصلاة حتى تكون أكثر منه وظفره كان مثل المثقال قوله: "كما وفقه الهندواني" أي بين قولي من اعتبر الوزن مطلقا ومن اعتبر. "

( كتاب الطهارة، باب الأنجاس و الطهارة عنها، ص: 156، ط: دار الكتب العلمية )

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

معافی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز پڑھ لی اور بعد میں اس قلیل نجاست کا علم ہوا تو نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے اور نماز کے دوران اس نجاست کا علم ہوا اور نماز توڑنے میں جماعت فوت ہونے کا خوف ہو تو نماز نہ توڑے، اور اگر جماعت فوت ہونے کا خوف نہ ہو یا تنہا نماز پڑھ رہا ہو اور قضاء ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ نماز توڑ دے اور نجاست زائل کر کے نماز پڑھے، قضا ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز نہ توڑے، معافی کا مطلب یہ نہیں ہے کہدھونے کو ضروری نہ سمجھے بلکہ اولین فرصت میں اسے دھو لینا چاہئے۔“

(کتاب الطہارت، ج:4، ص:55، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں