
ایک خاتون کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں دو بھائی اور سات بہنیں ہیں مرحومہ کا شوہر حیات ہے اور کوئی اولاد نہیں ہے، مرحومہ کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟
مرحومہ کے والدین اور بڑے بھائی مرحومہ کی حیات میں انتقال کر گئے، نیز دو بھائی یہ کہہ رہے ہیں کہ بہن نے اپنی حیات میں ہم سے صرف زبانی کلامی یہ کہا تھا کہ یہ مکان آپ کا ہے اس پر ان کے پاس کوئی کاغذات و غیرہ کچھ نہیں ہیں،مکان کے تین پورشن تھے دو پورشن میں بھائی رہتے تھے اور ایک میں مرحومہ رہتی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ پورا پورشن بھائیوں کا ہوجائےگا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ (یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ تو شوہر کے ذمہ ہوگا، اس کے علاوہ) اگر مرحومہ کی ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ منقولہ اور غیر منقولہ ترکہ کو 22 حصوں میں تقسیم کر کے 11 حصے مرحومہ کے شوہر کو، دو حصے کر کے ہر ایک بھائی کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
مرحومہ : 22/2
| شوہر | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 1 | ||||||||
| 11 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کی حساب سے 50فیصد مرحومہ کےشوہر کو، 9.090فیصد ہر ایک بھائی کواور 4.545فیصد ہر ایک بہن کو ملےگا۔
نیز مرحومہ کا مکمل ترکہ تمام ورثاءمیں مندرجہ بالا طریقے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا مرحومہ نے اگر بالفرض کسی بھائی کویہ کہا بھی ہو کہ یہ گھر تمھارا ہے تو ایسا کہنے سے یہ گھر اس کا نہیں ہوگیا بلکہ پورا گھر ترکہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة."
(کتاب: الهبة، ج: 5، ص:689، ط: سعید)
وفیه أیضا:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها."
(کتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101472
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن