بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر، دو بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم میراث


سوال

میری والدہ کا تقریباً دو سال پہلے انتقال ہو گیا ہے ، جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں وہ میری والدہ کے نام پر ہے ، ہم شریعت کے مطابق اس کی تقسیم چاہتے ہیں ،ان کے ورثا ء  ميں شوہر (ہمارے والد )،ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، میراث کس تناسب سے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ  کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ  کے حقوق ِمتقدمہ  یعنی   مرحومہ  پر کوئی  قرضہ ہے  تو اس کو ادا کرنے  کے بعد  اگر مرحوم   نے کوئی  جائز وصیت کی ہے تو اس کو ایک تہائی سے نافذکرنے کے بعد  باقی منقولہ وغیر منقولہ ترکہ  کو (8)حصوں میں تقسیم کر کےمرحومہ کے شوہر کو 2 حصے ، اور مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے ، اور ہر ایک بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی :

میت(والدہ )4 / 8

شوہر بیٹابیٹابیٹیبیٹی
13
22211

فی صد کے اعتبار سے 25 فی صد کے مرحومہ کے شوہر کو ، اور 25 فی صد مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو ، اور 12.5 فی صد ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔

 نوٹ : واضح رہے کہ یہ میراث کا یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب مرحومہ کے والدین حیات نہ ہو ، اور اگر مرحوم کے والدین حیات ہوں تو اس صورت میں یہ حکم نہیں ہو گا ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں