
میرے ماموں کا انتقال پانچ سال پہلے ہوا۔ ماموں کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بھائی، تین بہنیں اور سات اولادیں شامل تھیں۔ یہ ساتوں اولادیں پیدائشی طور پر خنثیٰ تھیں اور ان کے نام عورتوں والے تھے۔ تاہم بعد میں ان سات میں سے دو کا علاج کروا کر انہیں مردوں کے زمرے میں شامل کیا گیا تھا اور ان کی شادیاں بھی کروائی گئی تھیں۔
پھر ماموں کے بعد ان کی ایک بہن کا انتقال ہو گیا۔ بہن کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں شوہر، 3 بیٹے، 5 بیٹیاں، ایک بھائی اور 2 بہنیں حیات تھیں۔
اس کے بعد ماموں کے مذکورہ بھائی کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کے ورثاء میں ایک بیوی، 7 بیٹے، 3 بیٹیاں اور 2 بہنیں حیات تھیں۔
پھر ماموں کے بھائی کی بیوی (بیوہ) کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کے ورثاء میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل تھیں۔ (ان کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور ان کا اپنا کوئی اور بہن بھائی حیات نہیں تھا)۔
مذکورہ بالا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں کہ ماموں کی چھوڑی ہوئی جائیداد، پراپرٹیز اور کاروباری شیئرز وغیرہ کی تقسیم ان تمام ورثاء کے درمیان کس طرح ہوگی؟ اور کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم ماموں کی اولاد میں سے جن دو بچوں کا علاج کرایا گیا علاج کے بعد واقعۃ جنسی طور پر وہ مرد بنے ہیں انہیں شرعاً مرد ہی تصور کیا جائے گا۔ اور مرد (یعنی بیٹے) موجود ہونے کی وجہ سے مرحوم کی وراثت میں ان کے بھائی اور تین بہنوں (نیز ان کے بعد فوت ہونے والے ورثاء) کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
البتہ بقیہ پانچ بچوں کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ اگر ان میں مردوں کی علامات کا غلبہ ہو، یعنی صحبت کی قدرت ہو، یا پیشاب مردوں کی طرح کرتے ہوں، تو انہیں بھی مرد تصور کیا جائے گا اور بیٹوں والا حصہ ملے گا۔ اس صورت میں تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہوگا:
پہلی صورت (اگر تمام ساتوں اولادیں مرد شمار ہوں): مرحوم (ماموں) کی چھوڑی ہوئی تمام جائیداد، پراپرٹیز، کیش اور کاروباری شیئرز وغیرہ میں سے اولاً ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (1/3) حصے میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو 1 حصہ اور ہر ایک بیٹے کو 1، 1 حصہ ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہوگی :
میت---------- 8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا |
| 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو کل جائیداد کا 12.50% ملے گا، جبکہ ہر ایک بیٹے کو بھی 12.50% ملے گا۔
اور اگر ان بقیہ پانچ بچوں میں عورتوں والی صفات غالب ہوں، یعنی عورتوں کے مقام سے پیشاب آتا ہو یا حیض آتا ہو، تو انہیں عورت تصور کیا جائے گا۔ اور اگر صفات دونوں جانب برابر ہوں تب بھی مذکورہ صورت میں (احتیاطاً) عورت تصور کر کے بیٹیوں والا حصہ دیا جائے گا۔ اس صورت میں تقسیمِ میراث کا طریقہ درج ذیل ہوگا:
تجہیز و تکفین، ادائے قرض، اور ایک تہائی (1/3) حصے سے وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو 9 حصے، ہر ایک (علاج شدہ) بیٹے کو 14 حصے، اور ہر ایک (خنثیٰ) بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت---------- 8/ 72
بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی /خنثی | بیٹی /خنثی | بیٹی /خنثی | بیٹی /خنثی | بیٹی /خنثی |
1 | 7 | ||||||
9 | 63 | ||||||
14 | 14 | 7 | 7 | 7 | 7 | 7 | |
فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو 12.50فیصد، ہر علاج شدہ بیٹے (جو اب مرد ہیں) کو 19.44 فیصد، ، ہر خنثیٰ اولاد (عورت شمار ہو یا دونوں جانب برابر ہو) کو 9.72فیصد ملے گا۔
فتاوى عالمگيريہ میں ہے:
"إذا كان للمولود فرج وذكر فهو خنثى، فإن كان يبول من الذكر فهو غلام وإن كان يبول من الفرج فهو أنثى، وإن بال منهما فالحكم للأسبق وإن استويا فمشكل، وإن كانا في السبق سواء فلا معتبر بالكثرة، فإذا بلغ الخنثى وخرجت لحيته أو وصل إلى النساء فهو رجل، وكذا إذا احتلم كما يحتلم الرجل أو كان له ثدي مستو ولو ظهر له ثدي كثدي المرأة أو نزل له لبن ثديه أو حاض أو حبل أو أمكن الوصول إليه من الفرج فهو امرأة، وإن لم تظهر له إحدى هذه العلامات أو تعارضت هذه المعالم فهو خنثى مشكل، كذا في خزانة المفتين والأصل فيها أن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - يعطيه أخس النصيبين في الميراث احتياطا فلو مات أبوه وتركه وابنا فللابن سهمان وله سهم، ولو تركه وبنتا فالمال بينهما نصفين فرضا وردا."
( كتاب الفرائض، الباب التاسع في ميراث الخنثى، ج: 6، ص: 457، ط: رشیدیة)
حاشية ابن عابدين میں ہے:
"وبنو الأعيان وبنو العلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق، وبالجد عند أبي حنيفة ويسقط بنو العلات أيضا بالأخ لأب وأم اهـ ."
(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 782، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101714
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن