بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

تقریباً تین مہینے پہلے میرے والد کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں بیوہ اور تین بیٹے ہیں، جبکہ والدین کا انتقال پہلے سے ہو چکا تھا، اب میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں مذکورہ صرف تین بیٹے ہیں، جب کہ والدہ کے والدین کا بھی انتقال ہو چکا تھا، والد کے ترکہ میں ایک فلیٹ اور کچھ گھریلو سامان ہے، یہ والد کے ترکہ کو ورثاء پر کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا؟

اور اگر اس سامان میں سے کوئی بھائی باہمی رضامندی سے اپنے پاس رکھنا چاہے تو  کیا رکھ سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ  والدمرحوم کے ترکہ کو تقسیم  کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ  ترکہ  سے  مرحوم کے  حقوق متقدمہ    یعنی تجہیز و تکفین  کا  خرچہ  (  اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے  قرض کے   طور پر  دیا ہو، کو)  نکالنے   کے  بعد،    اگرمرحوم  پر  کوئی  قرض ہو، تو  اسے  ادا کرنے کے بعد، اگر  مرحوم نے  کوئی  جائز  وصیت  کی ہو،تو  اسے  باقی ماندہ  ترکہ کے   ایک تہائی سے پورا کرنے کے بعد، باقی کل  ترکہ منقولہ و غیرِ منقولہ کو  3 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کے  ہر ایک  بیٹےکو، ایک، ایک حصہ  ملے گا۔

صور ت تقسیم یہ ہے:

میت(والدمرحوم):3

بیٹابیٹابیٹا
111

یعنی فصدکے اعتبارسے،33.33فیصدمرحوم کے ہرایک بیٹےکوملےگا۔

باقی مرحوم کے ترکہ میں سے اگرکوئی وارث دوسرےورثاءکی رضامندی سے(جب کہ تمام بالغ ہوں) کچھ سامان  رکھناچاہے تورکھ سکتاہے،البتہ دوسرے ورثاءکی رضامندی کے بغیرکوئی چیزرکھناناجائزہے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں