
میری بیوی کاانتقال ہوچکاہےورثاء یہ ہے،شوہر،ایک بچی،چاربھائی اورچاربہنیں شریعت کےمطابق میراث کی تقسیم فرمائیں۔
نیزمرحوم نےیہ بھی وصیت کی تھی کہ میراتمام سامان بیچ کرمیری بیٹی کےلیےسوناکےزیوربنانا،تاکہ شادی کےلیےاس کےکام آئے،کیایہ وصیت درست ہے یانہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کی مرحومہ بیوی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوبقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے ادا کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو ،48حصوں میں تقسیم کر کے ،13 حصے شوہر (سائل )کو ،50حصے بیٹی کو ،دو،دوحصےہرایک بھائی کو،ایک،ایک حصہ ہرایک بہن کوملے گا۔
نوٹ : مرحومہ کےحقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات شوہر(سائل )کےذمےہوں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت(سائل کی بیوی):4 /48
| شوہر | بیٹی | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 2 | 1 | |||||||
| 12 | 24 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصدکےاعتبار سے، 25فیصد شوہرکو ،اور50فیصد بیٹی کو ،اور4.16ہرایک بھائی کو،2.08ہرایک بہن کوملے گا ۔
نیز کسی وارث کے لیے وصیت کرنا معتبر نہیں، ہاں اگر باقی سب ورثاءعاقل اوربالغ ہوں اوراپنی رضامندی سے اس وصیت کونافذکرناچاہیں تو وصیت نافذ ہو سکتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی مرحومہ بیوی کی اپنی بیٹی کے لیے کی گئی مذکورہ وصیت مرحومہ کے ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہے، اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اورراضی ہوں تو مرحومہ کی وصیت پر عمل کیا جا سکتا ہے ورنہ جو وارث وصیت نافذ کرنے پر راضی ہو اس کے حصے کی حد تک وصیت نافذ کی جائے گی اور اگر کوئی بھی وارث وصیت کے نافذ کرنے پر راضی نہ ہو تو صرف اس کا جو شرعی حصہ ہے وہی اس کو ملے گا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
(کتاب الوصیة، ج:6، ص:90، ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100085
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن