بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ،چھ بیٹے اور چار بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے والدکاانتقال ہوچکاہے،ان کے ورثاءمیں بیوہ،چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں،مرحوم کے والدین کاان کی زندگی میں انتقال ہوگیاتھا،مرحوم کے ترکہ میں ایک مکان ہے اس کی چوڑائی 60فٹ اورلمبائی 80فٹ ہے گھرکے بیچ میں ہم 8فٹ کاراستہ بنائیں گے،اب سوال یہ ہے کہ ہرایک وارث کاکتناحصہ بنےگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدمرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ (یعنی تجہیز و تکفین )کا خرچہ نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو، اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو،تو اسے باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سےنافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکۂ منقولہ و غیرِ منقولہ کو،128حصوں میں تقسیم کر کے،16حصےمرحوم کی بیوہ  کو،14حصےاس  کےہرایک بیٹے کو،7حصےاس کی  ہرایک بیٹی کوملیں گے۔

تقسیم کی صورت درج ذیل ہے:

میت(بھائی مرحوم):8 / 128

بیوہ بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
161414141414147777

یعنی فیصدکے اعتبارسے،12.5فیصد مرحوم کی بیوہ کو،10.93فیصداس کے ہرایک بیٹےکو،5.46فیصداس کی ہرایک بیٹی کوملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں