بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں تقسیمِ میراث


سوال

میت کی پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، اب دوسری شادی کی تھی ،جس سے اولاد نہیں ہے، دوسری بیوی زندہ ہے۔میت کی اولاد میں دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں، وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 48حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی زندہ بیوہ کو 6 حصے اور ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت ۔۔۔۔48/8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
6141477

فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو 12.50 فیصد ،اور ہر ایک بیٹے کو 29.16  فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 14.58 فیصد ملے گا ۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144506102718

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں