بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت، اسپانسرشپ اور کمیٹی کی رکنیت کا شرعی حکم


سوال

میں بارباڈوس کا مقیم ہوں۔یہاں پر ہر سال رات  کے وقت ٹیپ بال  کرکٹ کی ٹورنامنٹ  منعقدہوتا ہے، جس میں مسلمان اور کرسچن کھلاڑی کھیلتے ہیں، جس کومنعقد کرانے  والا کرسچن ہے۔ اس میں میدان پر کھانے پینے کی دکانیں بھی لگتی ہیں، جن میں حرام اور حلال دونوں طرح کی کھانے کی چیزیں ملتی ہیں، یہاں تک کہ شراب بھی ملتی ہے۔ میچ دیکھنے کے لیے عورتیں اور مرد سب حضرات آتے ہیں، یہاں تک کہ مسلم عورتیں بھی آتی ہیں۔ کھیل کے درمیان ڈی جے (میوزک) بھی بجایا جاتا ہے۔ کھلانے والا ٹورنامنٹ میں میدان پر اشتہار کے لیے کئی تاجروں سے اسپانسر کے نام پر پیسہ لیتا ہے، جن میں سود کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں بھی ہوتی ہیں، اسی طرح لاٹری کی کمپنیاں بھی ہوتی ہیں، اور کچھ مسلمان تاجر بھی اپنی دکان کا اشتہار کرنے کے لیے اسپانسر کے نام پر پیسہ دیتے ہیں۔ پیسہ دینے کی صورت میں دکان کے نام کا پوسٹر میدان پر لگایا جاتا ہے اور بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے۔

تو مجھے اس سلسلے میں آپ حضرات سے کچھ مسائل معلوم کرنا ہیں:

1۔ایسے ٹورنامنٹ میں کسی مسلمان کا کھیلنا کیسا ہے؟2۔کسی مسلمان تاجر کا ایسے ٹورنامنٹ میں پیسہ دے کر اسپانسر ہو کر اپنی دکان کا اشتہار کرانا کیسا ہے؟3۔کسی مسلمان کا اس ٹورنامنٹ کو منعقد کروانے والی کمیٹی میں رہنا کیسا ہے؟4۔اگر کوئی مسلم اس کمیٹی میں ہو ،اور ٹورنامنٹ کے ختم ہونے پر باقی بچنے والی رقم میں سے اپنا حصہ لے تو کیا یہ حلال ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام کھیل اور تفریح سے مطلقاً منع نہیں کرتا، بلکہ اچھے  صحت مند ورزش پر مشتمل  کھیل مثلا: تیراکی، گھڑسواری اور تیراندازی  وغیرہ کی  حوصلہ افزائی کرتا ہے،تاہم اگر کھیل کود میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جائے، مثلا: مثلاً مردوں اور عورتوں کا اختلاط ، موسیقی اور جوا وغیرہ  یا تصویر سازی ہو  یا اسے محض  لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ ٹورنامنٹ میں  مردوں اور عورتوں کا اختلاط ، موسیقی،میدان میں حرام اشیاء بشمول شراب کی خرید و فروخت اور تصویر سازی کا ہونا یہ سب چیزیں شرعاً حرام ہیں، لہذا اس ٹورنامنٹ میں مسلمانوں کا شریک ہو نا کسی بھی صورت میں شرعاً جائز نہیں ہے، چاہے  کھیلنے کی صورت میں ہو،چاہے دیکھنے کی صورت میں ہو، چاہے منعقد کرانے  والی کمیٹی کے ممبر ہونے کی صورت میں ہو ،چاہے اشتہارکرانے /اسپانسرشپ کی صورت میں  ہو، چاہے نفع لینے کی صورت میں ہو، تمام صورتوں مسلمانوں کا شریک ہونا شرعا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:

قرآن کریم میں ہے:

”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ." (سورۃ لقمان: 6)

ترجمہ: ”اور بعضا آدمی (ایسا) بھی ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے (یعنی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے ) جو الله سے غافل کرنے والی ہیں تاکہ الله کی راہ سے بےسمجھے بوجھے گمراہ کر لے اور اس کی ہنسی اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“ (بیان القرآن)

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ."(سورۃالمائدة :90)

ترجمہ :"اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔"(بیان القرآن)

"قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (2) وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (3)." (سورۃ المومنون:1،2،3)

ترجمہ:”بالتحقیق ان مسلمانوں نے آخرت میں فلاح پائی۔(1)جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں ۔ (2)اور جو لغو باتوں سے (خواہ قولی ہوں یا فعلی) پر کنار رہنے والے ہیں۔(3)“ (بیان القرآن)

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. "(سورۃ  المائدة:2)

ترجمہ :”اورنیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہواور گناہ زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں”۔(بیان القرآن)

  روح المعانی میں ہے:

"ولهو الحديث على ما روي عن الحسن: كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها."

 ( سورۃ لقمان،11 / 66،  ط:دار الکتب العلمیة)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي ‌عن ‌معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(المائدة،296/3، ط: دار إحياء التراث العربي)

تکملہ فتح الملهم میں ہے:

"فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً."

(تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا،435/4، ط: دارالعلوم کراچی)

مجمع الانہر میں ہے:

"لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء، والنوح، والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه.

وفي المحيط إذا أخذ المال من غير شرط يباح له؛ لأنه عن طوع من غير عقد.

وفي شرح الكافي لا يجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح، والمزامير، والطبل أو شيء من اللهو ولا على قراءة الشعر ولا أجر في ذلك.

وفي الولوالجي: رجل استأجر رجلا ليضرب له الطبل إن كان للهو لا يجوز."

(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،384/2، ط:دار إحياء التراث العربي)

جواہر الفقہ میں ہے:

"ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصبة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسيوا الذين يدعون من دون الله "، وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول "، وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وان لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في اقامة المعصية به إلى احداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط ان يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فانه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة،وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من اهل الفتنة وامثالها فتكره تنزيها."

(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، ج:2، ص:439 الى 453، ط: مكتبة دارالعلوم)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں