
ایک عورت تنسیخ نکاح کی شرائط پائے جانے کی وجہ سے عدالت میں مقدمہ درج کرواتی ہے، اور گواہوں سے اس کا نکاح اور تنسیخ نکاح کی وجوہات ثابت ہوجاتی ہیں۔ جج صاحب شوہر کو حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں، دو تین مرتبہ فیصلہ کو مؤخر کرتے ہیں۔ بالآخر شوہر کے نہ ماننے کی وجہ سے عورت کے حق میں فیصلہ دے دیتے ہیں، لیکن عدالتی کارروائی میں" خلع " کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو کیا یہ تنسیخ نکاح ہوگا ؟ یا خلع؟
کیا عورت اس کارروائی کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ؟ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ شوہر نے طلاق یا خلع دینے سے بالکل انکار کیا تھا، جب ہی عدالت رجوع کرنا پڑا ،اگر نکاح ختم نہیں ہوا تو پھر کیا راستہ ہے ایسی عورت کے لئے خلاصی کا ؟
آپ کے سوال کا حتمی جواب تو عدالتی کارروائی کے کاغذات کو دیکھنے کے بعد ہی دیا جاسکتا ہے ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ عدالتی کاغذات ور فیصلے کی کاپی کا ترجمہ کرکے ارسال کردیں۔تاہم اصولی جواب درج ذیل ہے :
اگر عورت تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے، اور اس میں تنسیخ نکاح کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھا گیا ہو اور عورت نے اپنے دعویٰ کو شرعی شہادت کے ذریعہ سے ثابت بھی کیا ہو تو ایسی صورت میں اگر عدالتی کارروائی یعنی فیصلہ میں تنسیخ یا خلع بذریعہ تنسیخ کا کا لفظ استعمال ہوا تو شرعاً یہ تنسیخ نکاح ہی شمار ہوگا اور شرعاً اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی، عدت گزرنے کے بعد عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا، اور اگر اس مقدمہ میں تنسیخ نکاح کی شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا گیا یا عدالتی کارروائی میں صرف خلع کا لفظ ہو تو یہ تنسیخ نکاح شمار نہیں ہوگا، اور نہ شرعاً خلع واقع ہوگا، دونوں کا نکاح بدستور قائم رہے گا۔
اس صورت میں خلاصی کا طریقہ یہی ہے کہ اولاً شوہر سے براہ راست طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع حاصل کی جائے اور اگر شوہر اس پرراضی نہ ہو تو عدالت میں نکاح کو گواہوں کے ذریعے ثابت کرکے تنسیخ کی وجوہات کو بھی شرعی گواہوں سے ثابت کیا جائے ، جس کے بعد عدالت شوہر کو بلاکر حقوق کی ادائیگی کی تاکید کرے ، اگر شوہر پھر بھی انکاری ہو تو مسلمان جج نکاح کو فسخ کردے ، فسخ نکاح کے بعد عدت گزار کر عورت دوسری جگہ نکاح میں آزاد ہوگی۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"الخلع لغة: النزع والإزالة، وعرفا بضم الخاء: إزالة الزوجية، واصطلاحا أو فقها: هو إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبول المرأة، بلفظ الخلع أو ما في معناه ۔۔۔۔۔ والخلع يحدث بالتراضي، أما الفسخ فيمكن أن يتم بالتراضي أو بقضاء القاضي."
(القسم الثانى النظريات الفقهية، الفصل السادس: نظرية الفسخ، ج:4، ص:3149، 3150، ط:دار الفكر)
حیلہ ناجزہ میں ہے :
"اور صورتِ تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوراُن کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرےاوراگر عورت کادعوٰی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتاتو اس کے خاوندسے کہاجائے کہ اپنی عورت کے حقوق اداکرویاطلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے۔اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے توقاضی یاشرعًاجواس کے قائم مقام ہوطلاق واقع کردے اس میں کسی مدت کے انتظارومہلت کی باتفاقِ مالکیہ ضرورت نہیں۔"
"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم... إلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."
(ص:73،ط: دار الإشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100246
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن