بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ کی فائل خود خرید کر اس میں کسی دوسرے کے حصہ کا حکم


سوال

میرے والد نے ایک سوسائٹی میں بلڈرسے پلاٹ خریدا اور اس پر گھر تعمیر کیا، بعد میں بڑے بھائی نے اپنے پیسوں سے اوپر گھر تعمیر کیااور وہاں شفٹ ہوگئے،پھر میرے والد کاانتقال ہوگیا، والد کے انتقال کے بعد ہمارے گھرپر عدالت میں کیس ہوگیا اصل مالک کی طرف سے،کئی سال کیس چلا اور وہ کیس ہم ہار گئے، کورٹ نے اس عورت کو جس نے ہم پر کیس کیا تھا،اصل مالک قرار دیا اور ہماری فائل کوجو والد نے خریدی تھی، جعلی قرار دیا، پھر وہ عورت عدالتی حکم پر گھر خالی کروانے کی تیاری کر رہی تھیں تو میں نے اپنے بڑے بھائی سے فائل خریدنے کی بات کی، لیکن انھوں نے منع کردیا، پھرمیں نے اس عورت سے رابطہ کرکے اس سے قانونی طریقے سے اصل فائل خرید لی اور گھر کو خالی ہونے سے بچایا، اب اصل فائل میرے پاس ہے، بعد میں میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا اور ان کے بچے اوپر رہتے ہیں، اب آپ شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ یہ جائیداد کس کی وراثت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر خریدی گئی جائیداد کا کوئی حق  دار نکل آئے، تو اس صورت میں  شریعت مطہرہ نے خریدار کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ فروخت کنندہ سے اپنی رقم  واپس لے ،کیوں کہ اس نے ایک ایسی چیز فروخت کی تھی جو اس کی ملکیت میں نہیں تھی،  جس کا فروخت کرنا اور قیمت وصول کرنا اس کے لیے جائز ہی نہیں تھا،لہذا صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ کی جو قیمت  والد صاحب نے ادا کی تھی  وہ فروخت کنندہ سے طلب کی جائے گی اور وہ رقم والد کے ترکہ میں شامل ہوگی، اسی طرح والد اور بھائی نے جو تعمیرات کروائی تھی، اس کے ملبہ کی قیمت بھی مرحومین کے ترکہ میں شامل ہوگی، اور ضابطہ وراثت کے مطابق دونوں کے شرعی وارثوں میں تقسیم کی جائے گی،  البتہ مذکورہ جگہ چوں کہ سائل نے اصل مالک خاتون سے خریدی ہے، لہذا اس کا شرعی مالک سائل ہی ہے، مذکورہ جگہ نہ والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہوگی اور نہ ہی مرحوم بھائی کے ترکہ میں شامل ہوگی ۔

البحر الرائق  میں ہے :

"ولو شرى أرضا فبنى أو زرع أو غرس فاستحق يرجع المشتري بثمنه على بائعه، ويسلم بناءه، وزرعه، وشجره إليه فيرجع بقيمتها مبنيا قائما يوم سلمها إليه."

(باب الإستحقاق، ج:6، ص:159، ط: دارالكتاب الاسلامي)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے :

"المادة (1192) كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."

(‌‌الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، ‌‌الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، ص:230، ط: نور محمد كتب خانه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101744

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں