
اگر تراویح کی اکیس رکعات ہو جائیں بھولے سے تو کیا حکم ہے اس کا؟
اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ تراویح پڑھتے ہوئے کسی موقع پر دو رکعت کی جگہ غلطی سے تین رکعتیں پڑھ لی گئیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر امام صاحب دوسری رکعت پر قعدہ کیے بغیر غلطی سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے اور قراءت کر کے تیسری رکعت میں قعدہ کر کے سلام پھیر دیا تو ایسی صورت میں فرض (قعدہ اخیرہ) چھوٹ جانے کی وجہ سے یہ نماز فاسد ہوگئی، اور ان تین رکعتوں میں جتنا قرآن پڑھا گیا وہ بھی ختمِ قرآن کے اعتبار سے کالعدم ہوگیا، اس لیے ایسی صورت میں یہ حکم لگایا جائے گا کہ تراویح کی اٹھارہ رکعتیں ہوئی ہیں، چناں چہ 20 رکعتیں مکمل کرنے کے لیے مزید دو رکعتیں پڑھنی لازم ہوں گی اور تکمیل ِقرآن کے لیے ان تین رکعتوں میں کی گئی قرات کا بھی اعادہ کرنا پڑے گا۔ نیز اس بات کا خیال رہے کہ تراویح کی نماز کی قضا نہیں ہوتی ہے اس لیے 20 رکعت مکمل کرنے کے لیے دو رکعت مزید پڑھنے کا حکم صرف اسی رات میں ہے جس کی تراویح میں یہ غلطی ہوئی ہے، اگر اس رات یہ دو رکعتیں نہیں پڑھی تو رات کے گزرنے کے بعد یہ دو رکعت نہیں پڑھی جائے گی، صرف توبہ و استغفار کیا جائے گا، البتہ قرات کا اعادہ آئندہ راتوں کی تراویح میں کیا جائےگا۔
لیکن اگر امام صاحب دوسری رکعت میں قعدہ کرنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور قراءت کر کے تیسری رکعت میں قعدہ کر کے سلام پھیر دیا تو ایسی صورت میں فرض (قعدہ اخیرہ) کی ادائیگی کی وجہ سے نماز ادا ہوگئی، اس لیے ایسی صورت میں ابتدائی دو رکعت میں کی گئی تلاوت کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ تکمیل قرآن کے لیے صرف تیسری رکعت میں کی گئی تلاوت کا اعادہ کرنا ہوگا۔ باقی اگر امام صاحب نے تیسری رکعت میں سجدہ سہو کرلیا ہو تو ان دو رکعتوں کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر سجدہ سہو نہ کیا ہو تو نماز کی ادائیگی ناقص ہونے کی وجہ سے وقت کے اندر (یعنی اسی رات میں) ان دو رکعتوں کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"ولو صلى ثلاث ركعات بتسليمة واحدة ولم يقعد في الثانية قال بعضهم: لا يجزئه أصلا بناء على أن من تنفل بثلاث ركعات، ولم يقعد إلا في آخرها جاز عند بعضهم؛ لأنه لو كان فرضا وهو المغرب جاز، فكذا النفل، ولا يجوز عند بعضهم؛ لأن القعدة على رأس الثالثة في النوافل غير مشروعة بخلاف المغرب فصار كأنه لم يقعد فيها، ولو لم يقعد فيها لم تجز النافلة فكذا في التراويح، ثم إن كان ساهيا في الثالثة لا يلزمه قضاء شيء؛ لأنه شرع في صلاة مظنونة؛ ولأنه لا يوجب القضاء عند أصحابنا الثلاثة، وإن كان عمدا فعلى قول من قال بالجواز يلزمه ركعتان؛ لأن الركعة الثانية قد صحت لبقاء التحريمة، وإن لم يكملها يضم ركعة أخرى إليها فيلزمه القضاء، وعلى قول من قال بعدم الجواز يلزمه ركعتان عند أبي يوسف، وعند أبي حنيفة لا يلزمه شيء؛ لأن التحريمة قد فسدت بترك القعدة في الركعة الثانية فشرع في الثالثة بلا تحريمة، وأنه لا يوجب القضاء عند أبي حنيفة، وعلى هذا لو صلى عشر تسليمات كل تسليمة بثلاث ركعات بقعدة واحدة."
(كتاب الصلاة، فصل في سنن صلاة التراويح، ج:1، ص:289، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله أو ترك قعود أول) لأن كون كل شفع صلاة على حدة يقتضي افتراض القعدة عقيبه فيفسد بتركها كما هو قول محمد وهو القياس، لكن عندهما لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعل الصلاة واحدة شبيهة بالفرض وصارت القعدة الأخيرة هي الفرض وهو الاستحسان وعليه فلو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتبارا بصلاة المغرب، لكن الأصح عدمه لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة. لأن التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها."
(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل،ج:2، ص:32، ط: دار الفكر)
الفتاوي التتارخانيةمیں ہے:
"و إذا تذكروا في الليلة الثانية أنه فسد عليهم شفع في الليلة الأولي، فأرادوا أن يقضوا يكره، لأنهم لو قضوا بنية التراويح يزيد علي التراويح هذه الليلة، و إنه مكروه."
(كتاب الصلاة، الفصل الثالث عشر: في التراويح، نوع آخر في قضاء التراويح،ج:2، ص:336، ط: مكتبةزكريا بدیوبند الهند)
الفتاوي التتارخانيةمیں ہے :
" وإذا فسد شفع وقد قرأ فيه، هل يعيد ما قرأ؟ اختلف المشائخ قال بعضهم: لا يعيد؛ لأن المقصود هو القراءة، ولافساد في القراءة، وقال بعضهم: يعيد، ليكون الختم في صلاة صحيحة."
(كتاب الصلاة، الفصل الثالث عشر: في التراويح، نوع آخر في بيان القراءة في التراويح،ج:2، ص:326، ط: مكتبة زكريا بدیوبند الهند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100161
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن