بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سرمایہ کے تناسب سے نفع اور رقم کی ضمانت کا حکم


سوال

 آج کل بعض اسکیمیں/کلب (مثلاً :2% کلب یا 4% کلب) رائج ہیں، جن میں آدمی رقم جمع کراتا ہے اور اس کے بدلے ہر ماہ یا مقررہ مدت کے بعد سرمایہ پر طے شدہ 2% یا 4% منافع دیا جاتا ہے، نیز اصل رقم کی واپسی کی بھی ضمانت ہوتی ہے، ایسی اسکیم میں سرمایہ لگانا اور اس سے حاصل ہونے والا منافع شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر کسی نے لاعلمی میں سرمایہ لگا دیا ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر معاہدہ  کے  مطابق سرمایہ پر طے شدہ نفع دیا جاتا ہے اور سرمایہ کی حفاظت کی بھی  ضمانت دی جاتی ہے تو یہ سودی معاملہ ہے ،شرعاً ایسی اسکیم میں پیسے لگانا اور نفع لینا  جائز نہیں ہے ، اگر لگاچکے ہیں تو فوری طور پر اپنے پیسے نکال لیں اور جتنا نفع وصول  کرلیا ہےاس کو اصل رقم سے منہا کرکے باقی رقم وصول کرلے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها) أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. فإن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة كذا في محيط السرخسي."

(کتاب المضاربة،الباب الاول فی تفسیر المضاربة،ج:4،ص:287،دارالفکر)

فتاوی شامی  میں ہے :

"(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت........ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها.

(قوله: في الربح) كما إذا شرط له نصف الربح أو ثلثه بأو الترديدية س (قوله فيه) كما لو شرط لأحدهما دراهم مسماة س."

( کتاب المضاربة، ج:5، ص:648، سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں