
زید نامی بندہ کی کوئلہ کی کان ہے اور خالد نامی بندہ کا اینٹوں کا بٹھاہے، خالد نامی بندہ اینٹوں کے بٹھے میں کوئلہ استعمال کرتا ہے ، وہ کوئلہ زید سے لیتاہے، اب زید خالد سے کہتاہے کہ کوئلہ کے کام میں آپ میرے ساتھ کمیشن پر کام کرو، مثلاً پچاس ہزار کی گاڑی ساٹھ ہزار میں فروخت کرو ، پانچ ہزار آپ کا کمیشن ہوگا۔
اب خالد کسی دوسرے بندہ کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو کمیشن اٹھاتا ہے اور جب اپنے لیے اپنے بٹھے پر اتارتا ہے تب بھی کمیشن لیتاہے ، تو کیا یہ درست ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے خالد کا زید سے مذکورہ معاملہ کرنا درست ہے، چاہے اپنے لیے کوئلہ خریدے یا کسی اور کے لیے خریدے۔
البتہ اپنے لیے خریدنے کی صورت میں پانچ ہزار کمیشن نہیں کہلائے گا بلکہ بائع کی طرف سے ثمن میں کمی (ڈسکاؤنٹ )شمار ہوگا اور دوسرے کے لیے خریدنے کی صورت میں پانچ ہزار کمیشن ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."
(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 63، ط: سعيد)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 356) حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر مثلا لو بيع مال بمائة قرش ثم قال البائع بعد العقد حططت من الثمن عشرين قرشا كان للبائع أن يأخذ مقابل ذلك ثمانين قرشا فقط إن هبة البائع مقدارا من الثمن المسمى للمشتري أو حطه مقدارا منه عنه أو إبراءه من بعضه بعد العقد صحيح ومعتبر سواء أكان المبيع قائما أم هالكا حقيقة أم حكما."
(کتاب البیوع، الباب الرابع بيان المسائل المتعلقة في الثمن والمثمن بعد العقد، ج: 1، ص: 241، ط: دار الجیل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101042
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن