
شوہرکی کئی سالوں سے بے رخی کی بناء پر بیوی تسکین کیلئے کیا طریقہ اختیار کرے؟ ایسی صورت میں انگشت زنی کی گنجائش ہے؟ جب کہ طلاق کی صورت میں دوسری کوئی جائے پناہ نہ ہو، اور بصورت دیگر گناہ میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو۔
وضاحت: شوہر اور بیوی ایک گھر میں رہتے ہیں، شوہر بیوی سے بات چیت نہیں کرتا، اگر کبھی ضرورت ہو تو بچوں کے ذریعے پیغام پہنچاتا ہے۔ شوہر نے کئی سالوں سے بیوی سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کیاہے۔
صورت مسئولہ میں اگرشوہر صحت مند ہو اور ازدواجی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ ازدواجی تعلقات قائم کرے تاکہ بیوی کسی قسم کے گناہ میں یا غیر فطری طریقہ سے شہوت رانی کے کسی طریقے میں مبتلانہ ہو، نیزبیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرے اور اپنے اس حق کا مطالبہ کرے، اگر کوشش کے باوجود شوہر ازدواجی تعلق قائم نہ کرے اور بیوی کو گناہ میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنا ذہن اس سے ہٹانے کی کوشش کرے، روزے رکھے تاکہ جذبات بیٹھ جائیں، اور اگر پھر بھی اگر شہوت کے غلبے میں انگشت زنی سے تسکین حاصل کر لی تو استغفار کرے، امید ہے کہ اس پر عند اللہ مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
فتح القدیر میں ہے:
"ولا يحل الاستمناء بالكف ذكر المشايخ فيه أنه عليه الصلاة والسلام قال: ناكح اليد ملعون، فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب»"
(كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة، ج: 2، ص: 330، ط: دار الفکر)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
"لاستمناء الرجل بيده حالات: الحالة الأولى: الاستمناء لغير حاجة: اختلف الفقهاء في حكم استمناء الرجل بيده في هذه الحالة:
فذهب المالكية والشافعية والحنابلة في المذهب والحنفية في قول إلى أن الاستمناء محرم؛ لقول الله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون} .وذهب الحنفية في المذهب وأحمد في رواية وعطاء إلى أنه يكره، وقيد الحنفية الكراهة بالتحريم حيث صرحوا بأنه مكروه تحريما...
الحالة الثانية: الاستمناء لخوف الزنا: اختلف الفقهاء في حكم الاستمناء في هذه الحالة: فذهب الحنفية والحنابلة في المذهب إلى أن من استمنى في هذه الحالة لا شيء عليه، وعبر الحنفية عن هذا المطلب بقولهم: الرجاء ألا يعاقب."
(حرف الیاء، ید، ج: 45، ص: 272،273، ط: طبع الوزارة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101742
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن